پشتونخوا کے نئے اضلاع ميں انتخابات اور اے اين پی کا بيانيہ/ خان زمان کاکڑ

ماضی ميں فاٹا کے نام سے جانے جانيوالے پشتون علاقوں ميں پہلی دفعہ صوبائی انتخابات ہونے جارہے ہيں. صوبہ پشتونخوا ميں انضمام کے بعد ان علاقوں ميں سياسی عمل کا باقاعده آغاز ہوچکا ہے. گزشتہ ايک صدی ميں افغانستان اور وسطی اشياء کے خلاف ايک ترويزاتی مورچے کے طور پر استعمال کی جانيوالی اس سرزمين ميں سب سے زياده استعماری اور رياستی مشنری کی توانائی وہاں پر سياسی عمل کی روک تهام پہ صرف ہوئی تهی. وہاں پہ قومی اسمبلی کيلئے غير سياسی اور غيرجماعتی بنيادوں پر انتخابات تو ہوتے تهے جس کے نتيجے ميں پاس ہونے والے لوگوں کی ايک كیٹیگری بنائی گئی تهی جو صرف حکمران حلقے کی ضروريات پوری کرنے کيلئے استعمال ہوتی تهی، اس سے کئی کام ليے جاتے تهے ليکن دو کام سب سے اہم تهے: ايک وه آزاد اميدواران اپنے حلقوں کے حوالے سے کسی قسم کی قانون سازی ميں حصہ نہيں لے سکتے تهے اور دوسرا ان کی نمائندگی کو بنياد بنا کر پشتونخوا اور باقی ملک سے فاٹا ميں رياست کے استحصالی کردار کے خلاف اٹهنے والی آوازوں کو اصولی اور اخلاقی طور پر بلاجواز قرار ديا جاتا تها. نيشنل عوامی پارٹی کے سربراه اور اس وقت کے اپوزيشن ليڈر خان عبدالولی خان نے وزيراعظم ذوالفقار علی بهٹو سے کہا تها کہ آپ کو جب بهی پارليمان ميں کسی اعتماد کے ووٹ کی ضرورت پڑتی ہے تو آپ فاٹا سے آئے ہوئے اميدوارن کا سہارا ليتے ہيں ليکن ان لوگوں کا اتنا بهی اختيار نہيں کہ وه اپنے اپنے علاقوں کے بارے ميں کوئی بات کرسکيں. يا تو ان لوگوں کو يہاں سے فارغ کرديں يا پهر ان کو قانون سازی کے عمل ميں حصہ لينے کا اختيار ديا جائے. بهٹو صاحب يہ کام کہاں کرسکتے تهے، اس لئے کہ فوجی ايسٹبلشمنٹ کو جلد ہی امريکی سرکار سے ايک بڑی ذمہ داری سونپنے والی تهی اور اس کو ايک بے اختيار اور بے زبان فاٹا ميں ہی پوری کی جاسکتی تهی. بهٹو صاحب کی بيٹی جب دوسری دفعہ اقتدار ميں آئيں تو افضل خان لالا کی پشتونخوا قومی پارٹی بهی ان کی حکومت کا حصہ بنی. افضل خان لالا کو سيفران کی وزارت ملی. وزرات کا حلف لينے کے بعد انہوں نے ميڈيا سے گفتگو کرتے ہوئے فاٹا ميں اصلاحات کی ضرورت پہ زور ديا. اس پريس کانفرنس کے فوراً بعد افضل خان لالا کو محترمہ کی کال آئی کہ وه ان سےفوری طور پر مليں. وه جب محترمہ کے پاس تشريف لے گئے تو محترمہ نے بتايا کہ جرنيلوں کو آپ کی فاٹا ميں اصلاحات لانے والی بات پسند نہيں آئی ہے لہذا آپ کی پورٹفوليو کو تبديل کرنا اب ہماری مجبوری ہے. ۲۰۰۸ ميں جب پيپلز پارٹی اور عوامی نيشنل پارٹی کی حکومت بنی تو فاٹا کی تقدير بدلنے کا ايک اميد پيدا ہوگيا. اس لئے کہ اے اين پی اس حوالے سے بہت ہی سنجيده تهی ليکن سب سے بڑا چيلنج يہ تها کہ نائن اليون کے بعد فاٹا کو عملاً افغانستان کے خلاف ايک مورچے اور تزويراتی گہرائی کے اہم ترين علاقے کے طور پر استعمال کرنا شروع ہوا تها. فاٹا جس پر اے اين پی کو اسلام آباد کا کنٹرول قبول نہيں تها اس پر راولپنڈی کا خطرناک کنٹرول آگيا تها. وہاں پہ عملاً دہشت گردوں کی حکومت قائم ہوئی تهی اور اس حکومت کی لڑائی براه راست صوبہ پشتونخوا ميں اے اين پی کی حکومت کے ساتھ شروع ہوئی تهی. يہاں پہ يہ بتانا بهی ضروری ہے کہ اسلام آباد نے ہميشہ “قوم پرست” پشتون کے خلاف ايک “قبائلی” پشتون کو انسٹرومينٹلائز کيا تها. جب راولپنڈی نے فاٹا کا کنٹرول سنبهالا تو ايک متشدد اور شدت پسند پشتون شناخت کو قومی سياست کے خلاف ابهارنا شروع کيا. سوچنے کی بات يہ ہے کہ جب فاٹا کو عسکريت کے سپرد کرديا جاتا تها تو عين اسی وقت اے اين پی پر دہشت گردوں کے شديد حملے جاری تهے. دوسرے الفاظ ميں، فاٹا کے سماجی اور ثقافتی مرکزے اور عوامی نيشنل پارٹی کے تنظيمی اور نظرياتی مرکزے پر بيک وقت ايک ہی قوت کی طرف سے حملے ہورہے تهے اور ساتھ ميں پاکستان کے مين سٹريم ميڈيا اور ميٹروپوليٹن حلقوں ميں فاٹا کی شناخت کو تشدد، قدامت پسندی اور پسماندگی اور عوامی نيشنل پارٹی کی شناخت کو کرپشن، اقربا پروری اور نااہلی کے ساتھ جوڑنے کا کام بهی جاری تها. پشتون نيشنلزم کو فاٹا ميں تاريخی طور پر جس طرح بلاک کيے رکها گيا تها، نائن اليون کے بعد يہ اور بهی خطرناک شکل اختيار کرگيا. سماج کے اوپر کنٹرول حاصل کرنے کی عسکری رياستی پاليسی نے فاٹا کو قوم پرستوں کيلئے مکمل طور پر ايک نوگو ايريا بنا ديا. دہشت گردی، عسکريت اور تزويراتی گہرائی کے خلاف جدوجہد کرنے والے پشتون قوم پرست خصوصاً باچاخان اور ولی خان کی پارٹی فاٹا ميں جاری خطرناک رياستی کاروائيوں سے کبهی لاتعلق نہيں ره سکتی تهی. يہ بهی بتاؤں کہ يہ واحد پارٹی تهی جس نے فاٹا ميں رياست کے اس نئے کهيل کو شروع ہوتے ہی ايکسپوز کرنا شروع کرديا اور اس کے خلاف پشتونوں کو متحد ہونے کی ضرورت پر زور ديا ليکن رياست نے فاٹا اور قوم پرستوں کے درميان جو فاصلہ پيدا کيا تها اس کی وجہ سے وہاں تک قوم پرستوں کی آواز پہنچ نہيں سکی. فاٹا ميں دہشت گردوں کی حکومت نے قوم پرستوں کے داخلے پر مکمل پابندی لگائی تهی. اے اين پی رياست سے مسلسل پوچھ رہی تهی کہ اس حکومت کو کب تک وہاں نافذالعمل رکهنے کی پالیسی بنائی گئی ہے؟ ڈيپ سٹيٹ کس کو کيا جواب دينے کا مجاز تها! جواب نہ ديتا، اوپر سے يہ پروپيگنڈا کرنے ميں کامياب ہوگيا کہ مشکل کی گهڑی ميں اے اين پی نے فاٹا کی عوام سے اظہار يکجہتی کی کوئی ايک کوشش بهی نہيں کی. اے اين پی ٹی وی سکرين پہ موجود ہی نہيں تهی کس کو کيا جواب ديتی، کس کے سامنے اپنی صفائی کرتی. دہشت گردوں کے سامنے امريکی ايجنٹ، ايسٹبلشمنٹ کے سامنے غدارِ پاکستان اور فاٹا کے عوام کے سامنے اپنے مفادات کی تحفظ ميں مصروف اے اين پی اپنے ليڈروں اور کارکنوں کی لاشيں اٹها اٹها کر بهی نہيں تهک گئی تهی اور کچھ اہم کام کرنے کا ايجنڈا آگے لے جارہی تهی جس ميں ايک اٹهارويں آئينی ترميم پاس کرنے کا کام تها ليکن بڑی محنت کے باوجود بهی اس ترميم ميں فاٹا کے حوالے سے اصلاحات لانے کے نکتے کے خلاف فوجی ايسٹبلشمنٹ ايک ديوار کے طور پر کهڑی ہوگئی. فاٹا ميں فوجی اقتصاد کی جو سلطنت جرنيلوں کی بننی جارہی تهی اس کو آئينی اصلاحات کی زد ميں لانا وه کبهی برداشت نہيں کرسکتے تهے. اے اين پی کا واضح مطالبہ تها کہ دنيا جہاں کے دہشت گردوں کو جو فاٹا ميں جمع کيا گيا ہے اور جس طرح سے وہاں پہ ان کے ذريعے مقامی آبادی کو تباه و برباد کيا جارہا ہے اس کو جس طريقے سے بهی ہو ختم کيا جائے ليکن ساتھ ميں يہ مطالبہ بهی کيا جارہا تها کہ فاٹا کو صوبہ پشتونخوا ميں ضم کيا جائے، وہاں پہ آئينی اصلاحات لائے جائے، دہشت گردوں کے خلاف اکراس دی بورڈ کاروائی کی جائے، خصوصاً پنجاب ميں دہشت گردوں کی اقتصادی اور نظرياتی نرسرياں جب تک ختم نہيں کی جائيگی اور اچهے اور برے طالبان کا فرق ختم نہيں کيا جائے گا تب تک امن نہيں آسکتا. پاکستان کی افغان پاليسی ميں تبديلی لانے اور افغانستان کو ايک خودمختار رياست تسليم کرنے کے بغير يہ مسئلہ ختم نہيں ہوسکتا. جيسا بتايا گيا کہ اے اين پی ان ساری رکاوٹوں کے باوجود باقی پارٹيوں ميں اتفاق رائے اور گورنر خيبرپختونونخوا کی مدد سے ۲۰۱۱ ميں پوليٹکل پارٹيز ايکٹ کو فاٹا تک بڑهانے ميں کامياب ہوگئی. اے اين پی نے اس وقت بهی کہا تها کہ فاٹا ميں سياسی سرگرميوں کی آزادی سے شارٹ ٹرم ميں دائيں بازو اور فوج پسند جماعتوں کو فائده پہنچے گا اس لئے کہ وہاں پہ براه راست طالبان اور فوج کی عملداری ہے ليکن لانگ ٹرم ميں وہاں کی عوام جو تاريخی اور رياستی ظلم و استبداد کا بدترين شکار بن چکی ہے وه اپنی حقيقی جماعتوں کا ساتھ دے گی اور ان کی ايک نئی سياسی زندگی شروع ہوجائيگی. پشتونخوا ميں فاٹا کے انضمام پہ عوامی نيشنل پارٹی کی ايک مستقل پوزيشن رہی تهی. فوج نے فاٹا ميں جو ظلم ڈهايا تها اور جس کی وجہ سے وہاں کی عوام ايک بيگانگی ميں چلی گئی تهی، اس کے پیشِ نظر انضمام کی تحريک کے سامنے ايسٹبلشمنٹ ميں ايک کنفيوژن کی صورتحال پيدا ہوگئی. وہاں سے رياستی ظلم کے خلاف موثر آوازيں اٹهنا شروع ہوگئيں، جس کے مدنظر، انہوں نے انضمام کے سوال کو سرسری طور پر حل کرنے پہ رضامندی دکهائی ليکن سياسی جماعتوں کی دور انديشی اور عوام کی بيداری وه سوال گہرائی ميں لے گئی. فاٹا کو پشتونخوا ميں ضم کرنے اور ايف سی ار کو ختم کرنے کی آئینی ترميم پاس ہوگئی ليکن اس پر عملدرآمد کوتاخير کاشکار بنانے کيلئے آئينی، انتظامی اور عسکری روکاوٹيں پهر بهی کهڑی کی گئيں. حلقہ بندياں کچھ اس طريقے سے کی گئيں کہ عوام کی نمائندگی کم سے کم ره جائے. اے اين پی نے اس کے خلاف بهی آواز اٹهائی. اے اين پی نے ايف سی آر کی جگہ رواج ايکٹ لاگو کرنے کے خلاف بهی آواز اٹهائی. وہاں پہ ريگولر لاء کے نفاذ کا پرزور مطالبہ کيا. دفعہ ۱۴۴ کے ذريعے سياسی سرگرميوں کو کنٹرول کرنے کی پاليسی کو اے اين پی نے عملاً چيلنج کرنا شروع کرديا. وزيرستان ميں کرفيو لگانا ايک نارم بن چکا تها. اے اين پی نے اس نارم کو ماننے سے انکار کيا. اے اين پی کے سردار حسين بابک نے صوبائی اسمبلی کے فلور پہ بتايا کہ وزيرستان ميں اب بهی گُڈ طالبان آزادانہ طور پر سرکار کی سرپرستی ميں گهوم رہے ہيں. انہوں نے بتايا کہ ہم اس حوالے سے ساری دنيا کو بتائينگے اور رياست کے اس کردار پرتنقيد کرتے رہينگے. ۲۰۱۳ کے اليکشن ميں وزيرستان ميں صرف عوامی نيشنل پارٹی کو طالبان کی طرف سے دهمکی ملی تهی کہ کئيں بهی سرخ جهنڈا لہرانے کی اجازت نہيں ہوگی. طالبان وہاں پر اے اين پی کے کئی اہم راہنماؤں کو شہيد کرچکے تهے. اب جب وہاں پہ تاريخ ميں پہلی دفعہ صوبائی انتخابات ہونے جارہے ہيں تو سب سے پہلے جس پارٹی کو سرکار کی طرف سے سيکوريٹی کی دهمکياں مليں، جس پارٹی کے دفاتر پہ سرکار کی طرف سے چهاپے پڑے، جس پارٹی کے بينرز کو ہٹايا گيا اور جس پارٹی کے کارکنوں پہ مقدمے بنائے گئے تو وه عوامی نيشنل پارٹی ہی تهی ليکن جو پارٹی طالبان جيسی قوت سياست سے نکال نہيں سکے اس کو ايسے اوچهے ہتکنڈوں سے کيسے نئے ضم شده اضلاع سے دور رکها جاسکتا تها. عوامی نيشنل پارٹی نے تمام اضلاع ميں اپنے اميدوار کهڑے کئے ہيں اور ان کيلئے بهرپور کمپائن کو جاری رکها ہے. تمام حلقوں کيلئے اے اين پی نے پورے صوبے سے خصوصی کميٹياں تشکيل دی ہيں جو وہاں جاکر پارٹی کا منشور، پيغام اور بيانيہ لوگوں تک پہنچا رہی ہيں. اے اين پی کے انتخابی بيانيے ميں کئی اہم نکتے ہيں. چند نکات کا ذکر کرنا ضروری سمجهتا ہوں.ء

 آئينی اختيارات

نئے ضم شده اضلاع کے وہی اختيارات ہونگے جو باقی پشتونخوا کے لوگوں کے ہيں ليکن پشتونخوا کے اختيارات ہر لحاظ سے پنجاب کے برابر ہونگے. ايسے پاکستان کو کبهی تسليم نہيں کيا جائيگا جس کا مطلب پنجاب ہوگا. پشتون پاکستان ميں ايک غلام کے طور پر رہنے کيلئے ہرگز تيار نہيں. سابقہ قبائلی علاقوں کو مزيد اسلام آباد يا راولپنڈی کے رحم و کرم پہ نہيں چهوڑا جائيگا، انضمام کے بعد ان کے سارے معاملات پشاور کے ساتھ وابستہ ہوچکے ہيں، پشاور کے ساتھ تعلق ميں اختيارات کا استعمال کيا جائيگا.ء

معاشی ترقی، افغانستان کے ساتھ تجارت، آمد و رفت

پاکستانی رياست نے افغانستان کے ساتھ آمد و رفت اور تجارت کے راستوں کو اس وجہ سے بند کرکے رکها ہے کہ اس خطے ميں پشتونوں کی ترقی کا عمل محدود بنايا جاسکے جوکہ پشتونوں کا انحصار پنجاب پہ بڑهانے کی پاليسی کا حصہ ہے. رياست نہيں چاہتی کہ ڈيورينڈ لائن کی دونوں طرف کے افغان ايک دوسرے سے اپنے تاريخی، قومی ، ثقافتی اور علمی تعلقات قائم رکھ سکيں. اے اين پی اس پاليسی کو پشتونوں کا معاشی قتل سمجهتی ہے، راستوں کو فوری طور پر کهولنے کا مطالبه کرتی ہے اور دونوں طرف کے افغانوں کی آزادانہ آمد و رفت کو بحال کرنے پہ زور ديتی ہے. سابقہ قبائلی اضلاع ميں ترقياتی کاموں کو جن فوجی کمپنيوں کے حوالے کيا گيا ہے اے اين پی اس کی بهرپور مخالفت کرتی ہے. اے اين پی پشتونوں کے وسائل پر فوج کا قبضہ مسترد کرتی ہے اور اس کے خلاف عملی جدوجہد کا عہد کرتی ہے.ء

امن

اے اين پی پشتون وطن بالخصوص سابقہ قبائلی علاقوں ميں امن قائم کرنا اپنی پہلی سياسی ترجيح سمجهتی ہے اور رياستِ پاکستان کو پشتونوں کی تمام تر بربادی و تباہی کا ذمہ دار سمجهتی ہے. رياست کے پالے ہوئے دہشت گردوں کے سامنے اے اين پی ڈٹ کے کهڑی رہے گی اور اپنی سرزمين پہ اپنا حقِ ملکيت ثابت کرنے کيلئے ہر حد تک جائيگی.ء

 نو ٹو ايف سی آر

 پی اے کے اختيارات ڈی سی کو منتقل کرنا ايف سی آر کا خاتمہ نہيں. ا ے اين پی ان اضلاع ميں صرف اور صرف ايک قانون کو مانتا ہے اور ملک کا ريگولر قانون ہے. کسی سٹيٹ آف ايمرجنسی کو تسليم نہيں کيا جائيگا.ء  

خواتين کی نمائندگی

اے اين پی ايک سيکولر اور ترقی پسند جماعت ہے. يہ کسی صنفی امتياز پہ يقين نہيں رکهتی. اے اين پی کی صفوں اور سلسلہ ِ مراتب ميں خواتين کسی بهی پوزيشن پہ آسکتی ہيں. اپنی اس سوچ کے مطابق اے اين پی نے ضلع خيبر کے ايک حلقے ميں ايک خاتون ناہيد افريدی کو ٹکٹ ديا ہے، وه ديگر خواتين کے ساتھ اپنے انتخابی کمپائن ميں اس معاشرے کا ايک نيا رخ دنيا کے سامنے لاچکی ہے جس معاشرے کو استعماری اور رياستی متون اور ميڈيا ميں پدرسری کی ايک بدترين علامت کے طور پر پيش کيا گيا ہے.ء

  مہنگائی 

پاکستان کی موجوده حکومت نے عوام پہ مہنگائی کے جو بم برسانا شروع کيے ہيں، اے اين پی سمجهتی ہے کہ اس حکومت سے ريت کی بوريوں کا کام ليا جارہا ہے، پاکستان کی فوج گزشتہ تيس سالوں سے امريکا سے دہشت گردی اور پهر دہشت گردی کو ختم کرنے کے نام پہ جو اربوں ڈالر وصول کرتی تهی وه ڈالرز اب رک گئے ہيں، جرنيل بهوکے ہوگئے ہيں، وه اب سانپ کی طرح اپنے بچوں يعنی عوام کو کها رہے ہيں، يہ مہنگائی فوجيوں کی بهوک مٹانے کيلئے لائی گئی ہے، اے اين پی مزاحمت کرے گی.ء

عوام کی نمائندگی، جمہوريت

اے اين پی موجوده سليکٹڈ حکومت کو تسليم نہيں کرتی اور سليکٹرز کو متنبہہ کرتی ہے کہ عوام کے حقِ نمائندگی پر ڈاکہ ڈالنے اور سياست ميں مداخلت کرنے کی پاليسی کے بڑے خطرناک نتائج برآمد هونگے. عوام کی حقيقی مينڈيٹ کو تسليم کيا جائے، ورنہ گلی کوچوں ميں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا. اے اين پی ايسے پاکستان کو ہرگز نہيں مانتی جس ميں پشتونوں کا وجود اور اختيار نہيں مانا جاتا.‌ء

 قومی وحدت

اے اين پی فاٹا اور خيبر پختونخوا کے انضمام کو پشتونوں کی جغرافيائی اور قومی وحدت کی طرف ايک تاريخی اور اہم قدم سمجهتی ہے ليکن ساتھ ميں اس پروسس کو جمہوری اور آئينی طريقے سے پايہ تکميل تک پہنچانے پہ بهی زور ديتی ہے. اے اين پی اپنی قومی شناخت پہ ايک ذرا کمپرومائز کرنے کو تيا رنہيں، سارے پشتون افغان ہيں، لر و بر ، يو افغان اے اين پی کا پرينسيپلڈ سلوگن ہے، پشاور ميں پشتونوں کے تاريخی دشمن رنجيت سنگشھ کے مجسمے لگا کر پنجابی ايمپريلزم کا تاثر نہيں دلايا جائے، ورنہ اے اين پی اس تاثر کو ذائل کرنے کی سياست جانتی ہے.‌‌ء

 دہشت گردی، سيکوريٹی، دهمکياں

  پشتونوں کی خودمختاری کی سياست کو مزيد دہشت گردی اور سيکوريٹی کی دهمکيوں سے نہيں دبايا جاسکتا. اے اين پی نے پورے دس سالوں ميں ان خطرات کا ڈٹ کر مقابلہ کيا ہے اور اپنی قوم کے ساتھ کهڑا رہنے کی ايک زبردست صلاحيت حاصل کرچکی ہے. سيکوريٹی دينا رياست کی ذمہ داری ہے. موت کا ايک دن مقرر ہے. آواز اٹهانا اور سچ بات کہنا اے اين پی کی روايت ہے. اے اين پی اپنی روايت برقرار رکهے گی. اے اين پی کو فرسوده حربوں سے نہيں دبايا جاسکتا.ء

Recapturing North Waziristan: A Tragic Dilemma of the Pakistani Liberals

Khan Zaman Kakar

Image result for hoodbhoy“Progressive Pakistanis should openly support the operation against a barbaric foe. Specious objections will merely serve to strengthen them,” said an eminent intellectual, teacher, scientist and an outspoken ‘liberal’ activist Dr. Pervez Hoodbhoy in a recent interviews with a weekly electronic magazine Viewpoint. He stated this when he was asked about whether the military operation going on in Waziristan “should be supported, opposed or ignored.”

The above suggestion clearly declares “a barbaric foe” as a “non-state actor,” fighting against the state and society in Pakistan. This statement completely ignores the role of Pakistani military in creating, sponsoring and recruiting this ‘barbaric foe’ that has been destroying and terrorizing the Pashtun and Afghan population for the past 30 years as “strategic assets” of the state, fighting for the purpose to make the policy of “strategic depth” an enduring reality.

The question is “who hosted this barbaric foe in FATA?” The statement is silent. Dr. Hoodbhoy has been a source of inspiration for the most progressive, oppressed and nationalist people in Pakistan who see themselves as having a strong narrative against the hegemonic state discourse. By standing with the army, Dr. Hoodbhoy’s recent take on the ongoing military operation is clearly directed towards a specific goal that is to spare the state and to provoke and challenge the religious fanatic segments operating in the society. He shouldn’t forget that the religious fanatic organizations do not have any independent status of their own. They are ideologically charged and sponsored proxies-like soldiers of the state.

The serious dilemma of the Pakistani liberals is that when they come to present their views on the war against terrorism after the 9/11 incident, they are not only badly confused but too simplistic, apologetic and NGO-istic in their approach. While ignoring the state’s strategic and political dimensions of the issue, it does not make sense to bluntly oppose the amorphous foe of religious extremism.

How can one blame a society for evils in which the people do not have any right to openly voice their political opinion, rights to education, and a regular representative state system for more than a century?

The problem is that liberals like Mr. Hoodbhoy do not believe in any “historical materialism” and ignore that people living in FATA also have a society, culture, economy and politics. They neither try to analyze the situation through the perspectives of war and political economies nor are they interested in local native perspectives. It would not be simplistic to say that militants who are in FATA enjoy  full-pledged patronage of the Pakistani state; and there are numerous local evidences, media reports and book references that could support this claim.

I do not know what Dr. Hoodbhoy means when he talks about “specious objections.” The fear that these objections “merely serve to strengthen them” is by no means a justification for remaining uncritical of the army’s role in the whole saga. And it remains that those of us with local native perspectives still have some serious objections.

 Our first objection is on the highly selective policy towards the militants. Even, at a discursive level, it is seen that the Haqqani network is being spared in the operation Zarb-e-Azb because it is the only organization that produces and maintains the category of the “good Taliban.” We are highly suspicious of the army’s actual role regarding the claim that they are going to eliminate the “bad Taliban.” We still are yet to see some proof of the terrorists targeted by the army in their ongoing operation.

Our second objection is that the Pakistani state is still unable to produce a public policy statement against the Waziristani terrorists in a documented form. How does the state know they would be able to eliminate the “bad Taliban” on the ground? Third, what the army has done in North Waziristan in the past one year has been indiscriminate bombardment of cities and villages killing and displacing civilians.

Fourth, according to several local sources and media reports, the militants had fled the area before the attacks and had gone to “peaceful areas” (not under attack). The same was done in the Swat operation when the Taliban leaders were provided a safe route of escape before operations in their area. Within the last decade, this Zarb-e- Azb is the sixth military operation without any clear-cut agenda, political consensus and public involvement, which is resulting in  mass killings and destruction of civilian life and property as the previous operations did to the war-trodden region. Is there anyone to hold the army accountable for its crimes?

The title of the story “Recapturing North Waziristan: A tragic necessity” in and of itself is a misleading one. Recapturing from whom? The title clearly draws a line between the military and the militants and separates the two from each other and declares them as two enemies standing in front of each other. When this is the case, what would the argument be for claiming that the “enemy is inside.” Instead, it means that the enemy exists inside society, inside the establishment. Blaming the Pashtun society for all the crimes and evils has now become a popular discourse among the liberals. However, it was not the society, but the state that forcibly imposed war and terrorism on society and effectively silenced the victimized people to never claim anything.

Since 1901, who has kept FATA under the Frontier Crimes Regulation (FCR) as a strategic space and a non-conductor? What interests are being served through this administrative status? How can one blame a society for evils in which the people do not have any right to openly voice their political opinion, rights to education, and a regular representative state system for more than a century? Are the society and the people still responsible for all the political tragedies, humanitarian crises and ideologically drunken fanaticism that exist in FATA?

For more conceptual clarity of Dr. Hoodbhoy’s stance on the ongoing operation, here are a few lines from his interview:

– “Their [Taliban’s] full furry is frontally directed at Pakistan: the people, state and military.”

– “Faced with a rising casualty rate, the Army had long contemplated action against the TTP and its bases in FATA. As we now learn from a recent disclosure by the former Director General of the ISPR, this action was demanded by many in the military leadership but prevented by General Kayani, probably because he feared a right-wing backlash from Taliban sympathizers in the military.”

– “As the bitter truth sinks in, the Army’s perspective has begun changing. Of course, both the soldiers and their enemies pray and fast with great unctuousness.”

– “Forced into a war that is not of its own choice, the Army is seeking a way out.”

– “I am struck by the more nationalist and less religious narrative that is now emerging. This is a good sign.”

– “Today the Pakistan Army is genuinely at war against a fanatical, religiously charged enemy.”

– “The army and Taliban are no longer two sides of the same coin.”

– Here, we see Dr. Hoodbhoy’s source of information is Inter-Services Public Relations (ISPR). In light of the statements of the director general of ISPR, he has started to promote the idea that today the army is genuinely at war against the terrorists. If ISPR is a reliable source, then the army has been genuinely at war against terrorists for the last ten years.

The so-called tribal people do not share any geographical border with Uzbekistan, Tajikistan, Saudi Arabia and Chechnya. Who brought and kept the Uzbek, Tajik, and Arab and Chechen terrorists as “guest warriors” in FATA? Are they different from Al-Shams and Al-Badar in eastern Pakistan? Does Dr. Hoodbhoy not feel any need to expose and oppose the role of military in the whole situation as his friend Eqbal Ahmad did in 1971 when the Pakistani army was killing Bengalis in accordance with the policy, “we don’t need the people of East Pakistan. We need their land”?

“The army’s perspective has begun changing and is seeking a way out,” but the perspective has not changed regarding the Jihadi organizations in Punjab as “Hafiz Saeed is trying hard to stay on the right side of the military.” I am unable to read what is hidden in this contradiction.

In the case of Baluchistan, the liberals are able to have a comparatively radical stance against the army because there is no powerful “religious opponent” to them who can directly confront their liberal projects. However, when they comment on the situation prevailing nowadays in Waziristan, the liberals in opposition to the religious terrorists forget that the army is the same, without any counter-terrorism strategy and with a religious outlook as the name ‘Zarb-e-Azb’ clearly indicates. While the military operation along the Afghan border is taking place at such a time that the Pakistani state is still unwilling to accept Afghanistan as an independent and sovereign state.

My question to Mr. Hoodbhoy and other Pakistani liberals is would the elimination of the Taliban be possible in Waziristan before the transition of power takes place in Afghanistan? Is there any sign of change in army’s Afghan-centric policy?

Dr. Hoodbhoy seems overly optimistic and confident that the Pakistani state will no longer stand by the terrorists, and he is implying that Pakistan would be a “peaceful and secular” country as envisioned by Jinnah. Jinnah’s secular Pakistan is itself a flawed interpretation of the history and politics, but the liberals are stuck with it.

Dr. Hoodbhoy no longer considers the Taliban as the army’s “strategic assets” of the state as he clarifies, “the army and Taliban are no longer two sides of the same coin.” What changed the situation and what are the results of the army’s present take on terrorism? We don’t know. However, the displaced and victimized people are not in a position to admire the role of army against militants in Waziristan. “Both are killing us,” has become a common saying among the people of the region where the army and the militants are busy in such a game, in which one is unable to understand who is fighting against whom, but the only result is the dead bodies of the local people.

“Can anyone deny that North Waziristan is an epicenter of terrorism?” says Mr. Hoodbhoy. I can’t deny that. However, can he deny that Punjab is an ideological and financial nursery of terrorism? Does he feel any need of a military operation in Punjab? In other words, is bringing peace in North Waziristan possible without touching the bases of terrorism in Punjab?

Dr. Hoodbhoy tells us with a hope and optimism that he is “struck by the more nationalist and less religious narrative that is now emerging. This is a good sign.” What is that nationalist narrative? The answer is pretty obvious. That is Pakistani nationalist narrative. For me, Dr. Hoodbhoy is a Pakistani nationalist, nothing else. And, the ongoing operation is simply an ethnic cleansing of the Pashtuns and nothing more.

Originally published at http://www.pashtunwomenvp.com/index.php/2013-01-28-03-21-27/political/480-recapturing-north-waziristan-a-tragic-dilemma-of-the-pakistani-liberals

 

کچی آبادی کے’ افغانوں’ کے خلاف پاکستانی رياست کی ‘آئینی’ کاروائی

«خان زمان کاکڑ»

ميری نظر ميں کچھ بهی اتنا  غلط نہيں ہوا. اسلام آباد کے آئی ايليون سيکٹر ميں جن کچی آباديوں کو مسمار کيا گيا اور خواتين، بوڑهوں اور بچوں کو گهسيٹ گهسيٹ کر نکالا گيا اور بدترين تشدد کا نشانہ بنايا گيايہ رياست کا ‘ حق’ تها. رياست کو يہ حق ‘آئين’ نے ديا ہوا ہے. رياست اگر يہ کچھ اپنے شہريوں کے خلاف کرتی تو احتجاج کا توڑا اور ذرا سا جواز بنتا تها .  يعنی اگر کسی پنجابی يا کسی ٹهيکہ دار کے گهر کو مسمار کيا جاتا تو سول سوسائٹی  اور لبرل لوگوں کا فرض بنتا کہ وه اپنا شريف سا نعره “وی وانٹ جسٹس” لگاتے. مگر اس کچی آبادی ميں رہنے والے نہ تو پنجابی تهے اور نہ ٹهيکہ دار بلکہ وه ‘افغان’ تهے اور رياست نے بجا طور پر اس کو افغان بستی کا نام ديا تها. يہ فاٹا اور پختونخوا کے رہنے والے پشتون تهے.  پشتون ڈيورينڈ لائن اور اس پر  کهودی ہوئی خندق کے باوجود بهی اپنے آپ کو افغان کہتے ہيں. ان کی زمين کی ملکيت کے  کاغذات ميں، ان کے فولکلو ر ميں اور ان کے ادبيات ميں ان کی قوميت افغان بتايا گيا ہے. ان کے سب سے موثر قومی ليڈر عبدالغفار خان کو اسی  پشاور، مردان، صوابی اور چارسدے کے پشتونوں نے فخرِ افغان  کا لقب ديا تها. انہی اضلاع سے ايسٹبلشمنٹ کی نارضامندی کے باوجود وقتاًفوقتاً  انتخابات ميں بهاری اکثريت سے کامياب ہونے والی سياسی جماعت اے اين پی کے مرکزی صدر اسفنديار ولی خان تقريباً ہر جلسے ميں فخر سے کہتے ہيں کہ انہوں نے پرويز مشرف کو  خبردار کيا تها ، “جرنيل صاحب !ميں ايک بات واضح کردوں، ميں کل بهی افغان تها، ميں آج بهی افغان ہوں اور کل بهی افغان رہونگا.” يہ بہت بڑا مسئلہ ہے اور اس ‘سازش’ کی ايک بڑی تاريخ ہے .اسلام آباد کی کچی آبادیوں ميں رہائش کا حق مانگنے کيلئے جتنا بهی کوئی اپنے آپ کو پاکستانی قرار دے اس سے وه پاکستانی نہيں بن سکتا.  ان مزدور پشتونوں نے ايک کچا مکان کا حق پانے  کيلئے پاکستان تو کيا ايک’ نيا پاکستان’ کا نعره بهی لگايا  تها اور ‘تبديلی’ کيلئے ووٹ بهی ديا تها. کل رياست نے ان کو نيا پاکستان بهی ديا اور تبديلی بهی! اب ان کی زندگی بہت ہی تبديلی ہوئی ہوئی ہے. جب خواتين کو گهسيٹا جائے، بچوں کو رلايا جائے، بوڑهوں کو بے آبرو کيا جائے او رسرچهپانے کيلئے ساری دنيا ميں کوئی مکان نہ رہا جائے تو  زندگی اور شعور ميں ايک خاص قسم کی تبديلی تو آتی ہے.

مجهے يقين ہے کہ جو پشتون علاقے پاکستان ميں آتے ہيں يا  پشتون قوم پرستوں کے بقول جن پشتون علاقوں پر پاکستان نے قبضہ کر رکها ہے ان ميں پاکستان کسی بهی “افغان” کو رہنے نہيں دے گا. رہنے کيلئے سب سے پہلی شرط: افغان ہونے کا دعوی تر ک کرنا پڑے گا اور دوسری شرط :رياست کے کاروبار، ٹهيکوں اور جہادوں ميں کسی نہ کسی طرح شريک ہونا پڑے گا. افغان بهی ہو اور غريب بهی  اور اوپر سے اسلام آباد جيسے خوبصورت شہر ميں رہنے کا خواہشمند يا ضرورتمند بهی!! اس کو اگر کوئی اور نام ديا بهی نہ جائے ، غيرقانونی اقدام تو ہے.

ا گر يہ لوگ کچھ سرمايہ دار  ہوتے تو اسلام آباد ميں ان کی رہائش کا جواز بنتا اس لئے کہ ايک تو سرمائے کی کوئی سرحدنہيں ہوتی اور دوسرا يہ کہ ان کی موجودگی سے رياست کی ‘معيشت’ اور ‘وقار’ کو کچھ فائده تو پہنچتا. رياست اتنی تنگ نظر اور نسل پرست بهی نہيں. اس نے راولپنڈی کينٹ ميں بهی بہت سارے’ پشتونوں’ کو بسايا ہوا ہے. معيشت پر بوجھ بننے والے، شہر کی خوبصورتی کو گنده کرنے والے اور اوپر سے پشتون بهی  جن سے آپ کسی قسم کی ‘تخريب’ کی توقع رکھ سکتے ہيں کسی بهی قانون کی رو سے اسلام آباد ميں رہائش اختيار کرنے کا حق نہيں رکهتے ہيں. قانون اگر لوگوں کو کنٹرول نہ کرسکے تو اس کی ضرورت ہی کيا رہے گی. قانون کی رو سے ہميشہ يہی ہوتا آيا ہے اور يہی ہوتا رہے گا.

غربت، بے روزگار ی اور دہشت گردی کی وجہ سے يہ پشتون اپنے علاقوں سے بهاگ کر اسلام آباد ميں آباد ہوئے تهے بلکہ برباد ہوئے تهے. ان کی بربادی کی وجہ تو ايک ان کی قوميت تهی اور پاکستانی رياست کی ‘بقاء’ او ر’ قومی مفاد’ کو اس قوميت سے تعلق رکهنے والوں نے ہميشہ نقصان پہنچايا ہے. کہا گيا کہ يہ پشتون اپنے علاقوں سے بهاگ کر اسلام آباد ميں آئے. دراصل ان کو بهگا  يا گيا تها. تاريخی طور پر پاکستان کو کبهی بهی لوگوں کی ضرورت نہيں رہی ہے  بلکہ اس کو زمين کی ضرورت ہوتی ہے. اس کو مشرقی پاکستان ميں بهی زمين کی ضروت تهی، بلوچستان ميں بهی، پختونخوا او فاٹا ميں بهی، سندھ ميں تو ابهی فوج کو زمين کا ايک چهوٹا سا ٹکڑا يعنی  صرف نو ہزار ايکڑ کا تحفہ ملا، رياست کا حق اس سے بہت بڑھ کر ہے. رياست کو اس کے جغرافيے ميں آنے والی ساری زمين پر ملکيت کا حق ہے. رياست يہ حق ہر صورت ميں لے گی. رياست نے جب  ان پشتون لوگوں سے فاٹا اور پختونخوا ميں زمين چهين لی تو يہ آکر بادشاہوں کے شہر اسلام آباد  ميں “آباد” ہوگئے. اسلام آباد کی نہ صرف زمين فاٹا اور پختونخوا سے قيمتی ہے بلکہ اس کی حثيت بهی بہت مقدس ہے. مزدور پشتون جس سے آپ ہر قسم کی “تخريب” (بوٹ پالش، ريڑهی چلانا  وغيره) کی توقع رکھ سکتے ہيں ان کو اس شہر کا تقدس پامال ہونے نہيں ديا جاسکتا ہے. ان پر دہشت گردی کے واقعات ميں ملوث ہونے کا الزام بهی ہے. يہ قوی امکان ہے کہ اسامہ بن الادن کو امريکہ نے اسی کچی آبادی ميں نشانہ بنايا ہو اور پهر فوج کو بدنام کرنے کيلئے ايک گريزن سٹی ايبٹ آباد کا نام استعمال کيا ہو او ر يہ اندازه بهی غلط نہيں ہوگا کہ اميرالمومنين ملا محمد عمر آخوند نے بهی يہاں  آخری سانس دی ہو. وجہ يہ ہے کہ جيسے ہی  رينجرز اور پوليس کچی آبادی کے خلاف آپريشن کرنے پہنچ گئے تو ملا عمر آخوند کے فوت ہونے کا اعلان کيا گيا.

فاٹا ميں رياست کو اپنی رٹ قائم کرنے کيلئے لوگوں کو وہاں سے نکالنا پڑا تها اس لئے کہ لوگوں کی موجودگی ميں اگر  طالبان کے ساتھ ملکی مفاد کو مدِ نظر رکھ کر کچھ معاملہ کرنا پڑتا تو اس کو فوج اور طالبان کا ايک ہونے کا نام ديا جاتا. تاريخی طور پر يہ بڑے سازشی لوگ رہے ہيں. يہ عجب خان آفريدی او ر فقيرايپی کی قوم ہے . انگريز جب اس خطے کو ‘مہذب’ اور ‘ترقی يافتہ’ بنانے کيلئے آئے تهے تو اس بدنصيب قوم نے انگريز کو اس ‘عظيم’ مقصد ميں کامياب  نہيں ہونے ديا تها. تاريخ ميں تو  ان کے ‘پسمانده کارنامے’ بہت  ہيں. ابهی حال ہی ميں جب آپريشن ضربِ عضب  کے سلسلے ميں پاکستان کی بقاء کيلئے  پاکستانی فوج شمالی وزيرستان پہنچنے والی تهی تو ہزاروں کی تعداد ميں يہ قبائلی لوگ افغانستان بهاگ گئے اور وہاں ہندو دشمن کی گود ميں بيٹھ گئے. وه جو کل کچی آبادی ميں چيخ چيخ کر اسمان سر پر اٹها رہے تهے وه بهی تو انہی قبائليوں کے رشتہ دار ہی ہونگے کہيں اسمان سے تو نہيں اترے تهے.

پشاور، چارسده، مردان اور صوابی والوں کا تو بتايا گيا، وہاں تو ان کے فخرِافغان نے سب سے زياده کام کيا ہے. انگريزوں کے دور سے ليکر آج تک. پاکستان کی تخليق کے مخالف تهے. مسلم ليگ کے خلاف ہندؤں  کی مسلمان دشمن تنظيم کانگريس کو ووٹ ديتے تهے. بنوں ميں پشتونستان کی قرارداد پاس کی تهی. ستر کی دہائی ميں سابق وزيراعلی حيدر ہوتی کے باپ اعظم ہوتی  پشتونستان بنانے اور پاکستان توڑنے کی سازش ميں جلال آباد  جاکر وہاں کيمپ چلا رہے تهے. عبدالغفار خان  بهی اسی جلال آباد ميں دفن ہيں. روس کے خلاف جہادِ فی سبيل الله سے ليکر کالاباغ ڈيم تک، گوادر کاشغر روٹ تک ان سب کو ناکام بنانے کيلئے  يہ لوگ فعال رہے ہيں. ابهی جو يہ بڑے محب وطن بننے کی کوشش کررہے ہيں يہ ان کی غلط فہمی ہے کہ رياست ان کی اس چالاکی کو نہيں سمجھ سکتی . ان کی سرشت ميں حبِ وطن نہيں. پنجاب کو کبهی انہوں نے اپنا مسلمان بهائی نہيں سمجها ہوا ہے.

افراسياب خٹک کل کچی آبادی کو مسمار کرنے کے خلاف احتجاج کرنے وہاں پہنچے تهے. کيا رياست کو پتہ نہيں کہ وه انقلابِ ثور کے دوران افغانستان ميں تهے اور ايک جديد مترقی افغانستان بنانے کيلئے انقلابيوں کے سب سے قريبی کامريڈ بنے ہوئے تهے . رياست ايسے لوگوں پر کبهی اعتماد  نہيں کرسکتی. ان لوگوں اور ان کی جماعت نيشنل عوامی پارٹی (نيپ) کے بارے ميں بهٹو صاحب  نے درست فرمايا تها کہ يہ کبهی بهی پاکستان کے دوست نہيں بن سکتے. ان کی بنياد پاکستان دشمنی پر ہے.

جن لوگوں نے اسلام آباد ميں کچی آبادی کے نام پر ‘جائيداديں’ بنائی ہوئی تهيں وه اسی سازشی طبقے کے بهائی اور رشتہ دار تهے. اسی طبقے ميں سے جن کو کل گرفتار کيا  گيا انہوں نے دہشت گردی کی کوشش کی تهی، انہوں نے رياست کے ‘آئینی اقدام ‘ کو چيلنج کيا تها. يہ سب کے سب پشتون تهے اور سب کے سب رياست کے اس راست اقدام کی مخالفت کررہے تهے. رياست کو ايسے معاملات ميں نسل پرست ہونا ہی پڑتا ہے. پاکستان کے پاس نسل پرستی کے سوا کوئی اور راستہ بچتا بهی نہيں.

بعض لوگ بڑی نادانی ميں رہے ہيں ان کا خيال ہے کہ رياست ماں جيسی ہوتی ہے. رياست تاريخی طور پر کہيں بهی اور کبهی بهی  ماں جيسی نہيں رہی ہے. البتہ اگر کوئی فيمنيسٹ ہو تو رياست کو باپ  سے تشبيہ دے سکتا ہے.

بعض دوست پهر پشتونوں کو بهی رياست کے ‘شہری’ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہيں. ان کو شايد سٹيزن اور سبجکٹ ميں تميز کرنا نہيں سکهايا گيا ہے.

يہ بهی بتادوں نسلوں نسلوں سے جو لوگ اپنی پشتون سرزمين پر آباد تهے اگر پاکستان رياست ان کو اپنی پشتون سرزمين سے بے دخل کرسکتی ہے تو اپنے دارالخلافے سے بڑی آسانی سے باہر پهينک سکتی ہے.

اسلام آباد مڈل کلاس کا ايک خوبصورت شہرہے. کوئی بڑا سے بڑا دہشت گرد بهی اگر اسلام آباد کے کسی سرمايہ دار سيکٹر ميں مقيم ہو اور وہاں سرعام تخريبی سرگرمياں کرتا ہو پهر بهی اس مڈل کلاس کا ايمان ہے کہ غريب بنده ہی جرائم پيشہ ہوتا ہے.

اسلام آباد فوج کا شہر ہے وہاں پہ خاکی ايمان والا ہی گزاره کرسکتا ہے.

اسلام آباد کو  شہر کہا جائے يا کچھ اور  ليکن پنجابيوں کا کلچر وہاں پہ حاوی اور حکمران ہے اس کلچر ميں پشتونوں کے حوالے سے کافی زياده ارشادات، فرمودات اور اقوالِ زرين  موجود ہيں.

پاکستان ميں اس وقت جس پنجابی جماعت مسلم ليگ کی حکومت ہے يہ پنجابی ٹهيکہ داروں اور نوکروں کی جماعت ہے. ابهی اگر اسلام آباد ميں رہنا ہے تو ٹهيکہ داری شروع کرو يا کوئی نوکری تلاش کرو!

کچی آبادی کے ٹهکرائے ہوئے  بے آسرے  ‘افغانوں’ کا ہم کچھ اور ہيلپ نہيں کرسکتے اپنے افغان وطن ميں واپس آنے کا دعوت دے سکتے ہيں. ويسے بهی ان کيلئے پنجاب جانے کی اجازت تو نہيں. برہمن پنجاب، شيخ صديقی ، شيخ فاروقی پنجاب اور شريف  پنجاب کبهی بهی ان ‘ناپاک’، ‘جرائم پيشہ’، ‘دہشت گرد’ اور ‘منشيات فروش’  انسانوں کو برداشت نہيں کرے گا.

Twitter: @khanzamankakar

قدآور خټک

ليکوال: خان زمان کاکړ

Image

د اجمل خټک د مقام د تعين لپاره له اجتماعي ژوند او نفسياتو سره د هغه د فني ربط څېړنه څرګندوي، چي ددې ربط په شا نه يوازي يو بې مثاله تخليقي قوت موجود دی بلکې له دې سره يو مضبوط سياسي شعور  هم  کارفرما پاتې دی، له قامي سوال او مسايلو  سره د هغه وابستګي ددې سوب شوه، چي د هغه او ټولنې ربط مسقيم او مستحکم کړي، په لومړي ځل په پښتو ادب کي خوره وره ترقي پسندي په دې سړي کي په يو سيسټماټکه بڼه راڅرګندېږي، په لومړي ځل  په پښتو ادب کي  پښتون قوميت له پراخ بېن الاقواميت سره ددې سړي په شاعري کي په ډېره څرګنده توګه پېوند ليدل کېږي او په لومړي ځل په پښتنو کي شاعرانه مزاحمت تنظيمي فعاليت ته يو ډګر جوړوي. محترم افراسياب خټک وايي “دا د غيرت د چغې اثر و، چي پښتون سټوډنټس فيډرېشن ترې ساز شو”.  ددې کتاب دا اهميت به هم په تاريخ کي محفوظ پاتې وي، چي هم امريت او هم شهنشاهيت بنديز ورباندي لګولی و.   اجمل صاحب ټول عمر يو رښتيني دانشور او  حقيقت پسند شاعر  پاته شو او کله يې هم له دې منصب سره خيانت نه دی کړی.

فېض احمد فېض ليکي: ” زموږ يقين دی، چي هر سنجيده ليکونکی کمټمنټ لري، د هغه له خپل ذات او فن دواړو سره وابستګي وي. هغه چي له خپل ذات او فن سره کومه وفاداري لري، پکار ده چي تر سره يې کړي. د موقع پرستۍ څرګندونه به نه کول وي. د څو سِکو په عوض خپل فن او نظريه بايد خرڅه نه شي. له خپلو مشاهدو او تجربو سره بې وفايي پکار نه ده او نه مصلحت آمېزه رويه خپلول او نه کوم بهرنی فشار منل پکار دی. ليکوال د خپلې خاورې او خلکو وفادار وي. هغه د خلکو دوست، د هغوي دانشور او لارښود وي. د هغه فريضه دا ده، چي خلک دجهالت، توهماتو، فرسوه رواياتو او تعصباتو له تيارو بهر را وباسي او د علم او دانش رڼاوې ورپه برخه کړي. د ليکوال فرض دا هم دی، چي خلکو ته له جبر نه د آزادۍ په لور او له مايوسۍ نه د امېد په لور تلونکې لار وروښيي”.

هم دا پورتني لوازمات د اجمل صاحب د شاعرۍ خصوصيٍات دي، هم دا د هغه د فني روايت او رويې بنيادونه دي. د سياستدان او اديب اجمل خټک د تفريق په سرخوږي اخته ذهنونه په ګرانه اصلي اجمل خټک منکشف کولی شي. د شخصيت د پېچيدګي او تنوع له حقيقت څخه بې خبر څوک نه شي کولی، چي د ژوند او فن پېچيده  او متنوع حقيقتونه درک کړي. رښتيا خبره دا ده، چي د اجمل خټک په شاعري کي موجود توانمن شعريت ته تومنه د هغه توانا سياسي شعور  مهيا کړې ده. د اجمل صاحب د شعريت په پرورش کي د هغه د طبقاتي او سياسي سوچ بنيادي کردار دی، هم دا دوې حوالې په خپل يو خاص امتزاج د هغه په ټول ادبي سفر کي کارفرما پاته شوي دي. په ادب کي طبقاتي او قامي سوچ پروپېګنډه ګڼونکو اديبانو ته پکار ده، چي د اجمل صاحب په صفتونو خپل وخت ضايع نه کړي، د يو ټي وي سکرين او کلتوري پروجيکټ په لالچ مروج منافقانه روش بايد پای ته ورسول شي.

کله چي پاکستاني حکومت ۲۰۱۱م کال د فېض احمد فېض په نوم ونومولو، نو د اردو ژبي يو ليکوال ليکلي و، چي هغه خلکو چي ټول عمر يې د فېض پر فکر او نظريه لعنت وئيلی و اوس به لوی لوی فېض شناس جوړ شي. همداسي وشو، همداسي له اجمل صاحب سره کېدی شي، همداسي کله کله د ټي وي مخ څرګندوي.، د رياست، سياست او ادب د اين جي اوز فطرت به اوس نور ډېر قدآور نومونه د ټرېډ مارک په توګه استعمال کړي، که اين جي اوز د امن  د پراجيکټ په نوم مشاعرې اعلان کړي، د ترهګرو حامي ذهنونه به پکي د باچاخان او امن ترانې زمزمه کړي. زه داسي افغانيت مخالف خلک پېژنم، چي په مشاعرو کي د داد د وصولولو په خاطر د افغانستان اوږدې اوږدې ترانې وايي.  اجمل صاحب داسي سړی و، چي ټول عمر د منافقت ددې قبيلې او قبلې په متضاد سمت کي فعال پاته شو، چي څه يې ليکلي هم هغه يې عملاً کړي. د اجمل صاحب په شاعري کي د افغانيت رنګ دومره څرګند دی، چي د مستعمرې خاورې زيات شاعران نن هم د آزادۍ الهام ترې اخلي.  په “از ضياء روح افغاني بترس” نومي نظم کي د علامه اقبال د عظمت اعتراف په داسي توګه کوي، چي د افغانيت عظمت ته درناوی پکي بنيادي محرک ښکاري، ځکه چي اقبال نه يوازي د افغانستان عظمت ته درناوی درلود بلکې په دې عظمت پوهېدو هم… اقبال د افغان پېژندنې يوه موثره حواله ده، د خپل دور دې دانايې راز په خطه کي د افغانستان د سټرېټجک موقعيت د ارزښت راز په ډېرو درنو الفاظو څرګند کړی دی. پاکستان د عظمت لوټونکي رياست  په توګه د اقبال د عظمت په لوټلو کي هم پنځه شپېته کاله صرف کړي دي، پاکستان اقبال تخريب کړ، پاکستان ساينس، دانش، فن او جماليات تخريبوي. “از ضياء روح افغاني بترس” د اجمل صاحب په شهکارو نظمونو کي راځي، د اقبال په حواله په خپل رسا فکر هغو جارحانه ذهنونو ته نېغه لار په ګوته کوي چي بې د اقبال د څه مطالعې د رياستي پروپيګنډې په ضد اقبال دښمني ته پارېدلي دي. د اقبال له نظرياتو سره اختلاف کېدی شي خو د هغه له لوړ شاعرانه قامت او دانشورانه حثيت څخه انکار به بې علمي وي. دا حقيقت په پام کي ساتل پکار دی، چي د اقبال او پاکستان له يو او بل سره هيڅ تعلق هم نشته.

که زه د خېبر سېوري کي د مړو غوندې اوده يم

هغه  وايي  چي  نه  زه د تمامې ايشياء  زړه يم

زما       په   آبادۍ   د   ايشياء   ټوله   آبادي   ده

زما   په  بربادۍ  د  ايشياء  ټوله   بربادي ده

زما     بېدارېدو  ته  اقبال  خپله  ترانه     شي

زما  د ننګ بڅري يې پوکلي چي لمبه شي

زما  د  روح  په پاکو تلوسو باندې پوهېږي

دا   ځکه    خو   زما  رالړزېدو  ته     هوسېږي

زما    د  قبيلو  نفاق  چي  ويني   نو خفه  شي

دَی  ژاړي  چي  زما  د  وحدت  سنګ  پاره پاره شي

دا خلک وو، دا د اجمل خټک تحريک و، دا خدايي خدمتګاران وو چي د قبيلو په تبر مات اندام اندام پښتون يې د قاميت سانچې ته د اچولو لپاره تاريخي مبارزه وکړه، د قبيلويت خونخوار سيټ اپ د پښتنو صلاحيتونه او انرجي په تورو خاورو لړلې ده . قاميت، پراخه او وسيع النظره جمهوري قام پرستي د يو څرګند روايت په توګه په شلمه پېړۍ کي د خدايي خدمتګار تحريک په شاعرانو کي دود شوه، خصوصاً د اجمل صاحب په شاعري کي دا روايت انتهايي مضبوط پاتې شوی دی، له خپلو تاريخي بنيادونو سره وابستګي، ترقي پسند رجحان، انساندوستي او جمهوريت پسندي د اجمل صاحب د شعري رويې او روايت تر ټولو نمايان توکي دي، له دې سره د معروضيت او ټولنيز نظام په حواله يو بې باک تنقيدي شعور د اجمل صاحب لار يوه داسي قطب ته ويسته، چرته چي په ترقي پسنده جهان بيني کي د بين الاقواميت هغه کوڅه راڅّرګندېږي، چي پکي مظلوم او مزدور انسانيت د عقيدې، جغرافيې او قبيلې له امتيازه ماورا په يو سټېج، يو سنګر،  په يو سټېټس، سايز او سټېچر ولاړ دی.

خوشال بابا وايي:

څو دي وس رسي په لوی درياب کي ګرځه

په     وياله    کي     دي    زوال      وينم     نهنګه

د انساندوستۍ په لوی درياب کي ګرځېدونکي دې “نهنګ” ځان لازواله کړ، ځان يې د تاريخ د يوې موثرې برخې باشنده کړ، افاقي شو، تلپاتې شو، د مظلومو او مجبورو انسانانو په ذهنونو کي د تل لپاره مېشت شو.

يوه تجربه ټول لري، په پښتنو کي چي د چا تر غوږ هم د طبقاتي مبارزې غږ تېر شوی وي، د هغه پر ژبه به د اجمل صاحب يو نه يو شعر ضرور اوښتی وي، يوه بله خبره درته وکړم، په پښتنو کي داسي خلک هم کم نه دي، چي د مارکسزم ليننزم په الف ب به هم نه پوهېږي، خو د اجمل صاحب د شعرونو په حوالو به پر کميونيزم او ترقي پسندي ليکچرونه ورکوي.  

د اجمل صاحب د ادبي او سياسي ژوند ابتداء له خدايي خدمتګارۍ څخه شوې وه  او د باچاخان په جلسو کي به يې داسي نظمونه وئيل:

اې پښتنو د مينې زېری واخلی

ستاسو د بخت هغه سبا راغی

چي د انګرېز يې دواړه ښکر مات کړل

هغه  بوډا  پهلوان  بيا  راغی

د هغه وخت يوه کيسه په خپل کتاب «کيسه زما د ادبي ژوند» کي داسي بيانوي: ” پير صاحب د مانکي شريف امين الحسنات مرحوم هم په دې دوره کي د باچاخان سره و. زه به ددې دواړو سره په موټر کي ناست وم نو پير صاحب به چي زما نظم واورېدو او موټر کي به سواره شو نو باچاخان نه پرده کي به يې راته ووئيل خټکه! ته هم شېخ شوې (يعني د مشرانو قصيدې وايې) ما به دغه وخت ده ته جواب ورنکړو چي دَی مشر و او زه کشر. خو چي ورسته ورسره ډېر اشنا شوم  او ازاد شوم او د هغه په آزاد طبعيت، روښانه ذهن او ارته سينه واقف شوم نو بيا مي ورته يوه ورځ ددې په ځواب کي ووئيل چي شېخان خو تيارخواره وي او د تيارخورو قصيدې وايي. زه خو د مېدان غازي يم او د يو داسي غازي اشعار وايم چي هغه ټول عمر پښتانه رابېدار کړي دي او د خپل وخت په ټوله دنيا کي د ظالم جابر او استعماري قوت سره يې ټکر اخيستی دی، که شېخ داسي وي لکه زه نو زه په داسي شېخي فخر کوم. پير صاحب زما په دې ځواب خاموش او خوشال شو، ولي بيا به يې هم چي کله وليدماته به يې غازي وئيل”.

ددې غازي شاعر، غازي مبارز افکار تر نن پورې د پښتنو اجتماعي نفسيات متاثروي، د درو نسلونو د ذهني پرورش تر څنګ په پښتو جديد ادب کي د جديد نظم ددې بابا مقام ډېر لوړ او اوچت دی، پکار ده چي په دې هکله اکېډمک تنقيد ته رجوع وشي او د روايتي ستاينليکونو په ځای د اجمل صاحب د اصل مقام تعين وشي. په هم دې طريقه په ادب کي د انحطاط مخه نيول کېدی شي او نوي فکري زاويې متعارف کېدی شي، ادبيات د فکر پر يو نوي محور راڅرخول غواړي، دا د نوي دنيا سره د ژوند کولو ضرورت دی.

د بلوچستان سياسي منظرنامه/ خان زمان کاکړ

Image

په ۲۰۱۴م  کال  کې پر خپلو پښو د تګ کولو تجربې ته د داخلېدونکي افغانستان په تناظر کې که د ډيورينډ په فعاله سياسي کرښه د بېل شوي بلوچستان نننی سياسي او ټولنيز وضعيت وځيرل شي نو د اطمينان نخښې پکې تتې ښکاري. پاکستان بايد مسخره ونه ګڼل شي، نور که نه وي دومره توان ضرور لري چي د شر تخم په قدم قدم وپاشي او ددې کار يوه زړه بوږنوونکې ابتداء يې کړې هم ده.  د بلوچستان په ټول سياست او سياسي وضعيت کې اوس له شره پرته بل هيڅ پرمختګ نه تر سترګو کېږي. په خاص پاليسي يې د بلوڅو سردارانو او پښتنو ملايانو په غضب وهلی دا ايالت اوس د دواړو قامونو داسې قام پرستانو ته حواله کړ چي نه د بلوڅو او پښتنو د خوندي سرنوشت ټاکلو لپاره څه دانش او پاليسي لري او  نه هم د رياستي واک له بدبودارې سانچې څخه د ځان د بهر ساتلو توان او طاقت لري. هسې هم ددې قام پرستانو د ايتلافي واک کاسه د پنجابي نوازشريف له ګوند سره شريکه ده، د مثبت څه کولو هيله ترې عبث ده. د بلوڅو او پښتنو په خوارولو کې د پنجاب بې مثاله او بې سياله رول پاته شوی. پنجاب په سياسي لحاظ څوک دی؟ سياسي پنجاب او نوازشريف د يو او بل دوه نومونه دي. له پنجاب سره د واک د حلوا پر کاسه چاپېر د بلوڅو او پښتنو ګوندونه به په دې پنځه کاله کې ددې ايالت او پاکستان تر منځ د تعلق نه يوازې وضاحت ونه کړای شي بلکې د نه اختيار په سوب به ترې ايالت د شر د کسبګرو په لاس ولوېږي.

زه هيڅ ددې خلکو پر نيت او اخلاص د شک کولو هڅه نه کوم، خو د دوی په سياست کې د هراړخيز دانش کمي او له دښمن چا سره د ايتلاف تېروتنه به نه يوازې دوی د بيا لپاره له خلکو پرې او لرې وساتي بلکې راتلونکی به مو د هغو ملايانو په لاس هم ورواچوي چي بې پېسې، بې کمېشنه او بې کرپشنه نور هيڅ هم نه پېژني. وئيل دا غواړم، چي موږ د تاريخ پر يو داسې پړاؤ ولاړ يو، چي که هر څوک هر څه کوي،خو له ملتپالو سره مو د تېروتنو ګنجايش پاته نه دی ځکه چي د دوی ناکامي مو د يو داسې متبادل په خوله ورکوي چي د ژوند د ژغورنې او غوړونې  هيڅ سوژه او پروژه نه پېژني، يوازې د وږي ساتلو او پر وږو سينو د مرميو چلولو په هنر پوهېږي.

په بلوچستان کې په يو وخت درې تياترونه دوام لري، ددې ايالت غريب، ځپلي او قبايلي وګړي به ددې درې واړو تياترونو د تېرولو څه توان ولري؟ بلوڅان له رياست سره په يو نه تم کېدونکي او نه ستنېدونکي جنګ بوخت پاته دي، د هزاره ګانو خلاف رياستي  دانش د يو خاص پلان لاندې د ټولوژنې يوه نوې پروژه پلې کړه او په پښتني سيمه کې هغه څه تر سترګو کېږي، څه چي د لوی افغانستان د غميزې په تسلسل کې نيژدې په ټولو پښتني سيمو کې تجربه شوي. ددې درو واړو تخريبي او تراژيکي تياترونو ترتيبونکی رياست د يوې لويې معاشي امپراتورۍ مالک، په يو لوی پوځ سنبهال او په ځانمرګو اجناسو خودکفيل دی. په داسې يو حالت کې، له اوسني خوار ايالتي حکومت څخه د نجات کومه نسخه غوښتل پخپله يو حماقت دی. دا خواران چي مېړني شي نو څو سړکونه او سکولونه به جوړ کړي او هم دا به يې د سياسي کردار پېمانه او معيار وي. درد سړي ته په دې رسي چي ولي مو ټول سياست دومره ټيټې درجې ته راوغورځېد چي د ژوند او مرګ پر بريد پوله د ولاړ قام د قامي پوښتنې د پوښتنې څوک راپکې پاته نه شو. پوښتنه دا ده چي په پاکستان کې د تاريخ جبر غورځولي پښتانه له خپلو پښو لوېدلي، که د پاکستان زور ته څوک د ټينګېدلو نه دي او که نه د پښتنو رهبرانو دا قام پاکستان ته په ټېکه ورکړی دی؟

هر صورت چي دی خو صورتحال دا دی چي په بلوچستان کې پښتانه په داخلي نوآبادياتو بدل شوي او بلوڅان په داخلي افتراق او انتشار کې د آزادۍ رومانس له خپل وجوده بې خبره ساتلي دي. د پښتنو مقامي معيشت يې د مقامي غونډه ګانو په لاس ورکړی او د بلوڅو معيشت يې د رياستي بدمعاشيو تر ستوني تېر کړی. پښتانه له چا سره د حساب کولو مدعا نه لري او بلوڅان مدعا لري خو د مدعا په شا يې خپله خوارځواکي د غاړې طوق دی. توپير يوازې دومره دی چي پښتانه پر ورکو او تورو لارو وژل کېږي خو بلوڅان د يو هدف په ارمان مري. د پښتنو قبرونه کتبې او شناختې نه لري خو د بلوڅو قبرونه کتبې او شناختې لري. په پښتنو کې لا سياست اوس هم په رشتو او اخلاقياتو دی خو بلوڅان له پاکستان سره په کاسه د خپلو شريکو سياستوالو له خپلوۍ انکار کولی شي.  پښتانه د ړندې اخلاقي خپلوۍ په ګرداب کې خپل مستقبل په تورو تيارو کې اچوي او بلوڅان له خپلويو څخه د انکار په نتيجه کې د راپېدا کېدونکي قبيلوي خوټکېدونکي کټوۍ لړمون ته سمېږي.

له موږ دواړو قامونو سره مسئله دا ده چي په يو توندروي رياست کې د ژوند ټولې چارې د يو پېچلي قبايلي ليدلوري په لار تر سره کوو. موږ د رياست د معاشرت علم نه لرو، موږ د رياست له جارحيت پرته بل هيڅ هم تجربه کړي نه دي، په بلوچستان ايالت کې د مېشتو پښتنو، بلوڅو او هزاره ګانو ټول امنيت غوړېدلو امنيتي پوستو تر ستوني تېر کړی، هم يې د ژوند دوديزې وسيلې راڅخه ترړولي دي. په سپنه ورځ، پر لويو لارو، د لويو مېلمستونو لرونکي په يو عام انسان پسې خپلې پاللي قواوې لېږلی شي، پر سرونو لوبه اوس دود شوې، د سړيو د تښتولو روزګار مقبول شوی دی، مقامي جائيدادونه د تپل شوو غونډګانو د لاس نانځکې ګرځېدلي دي. په تاريخ کې اوس مهال تر هر کله زيات د بلواکۍ او ښکېلاک د درندګۍ نندارې د عامو انسانانو په وړاندې جوتې شوي دي، څوک د څه وئيلو وړ او مجاز پاته نه دی، ځکه چې د څه وئيلو توان  د تېرو شپېتو کلونو د استعمار مهار کړي سياست په ډېر هنر ترې اخيستی دی. ټولنه پر منځ غوټه ماته ده، د جرګه کېدلو صلاحيت اوس د دې ټولنې د اجتماعي ضمير له برخې وتلی دی. د قاميت سرود ږغوونکي چي مو د کليو منځ ته راغلل، نو په لومړي سر کې يې لا قبايلي نظام د ټولو بدمرغيو سر وګاڼه خو چي پر هغه نظام يې د خلکو باور ختم کړ نو په بدل کې يې هيڅ هم ور نه کړل، د نظام يوه خلاء يې ورغوله چي هغه اوس د شوکونې او وژنې کسبګر ډکوي.

                                                                                        په ګرداب ورځپاڼه کې خپره شوې

Sectarian Violence in the ‘Laboratory of Islam ‘

The bloody sectarian clash erupted in Rawalpindi on the 10th of Muharram was termed as “unfortunate exception” by the Pakistani media. The figure of killings given by the Azad media that the sectarian violence in Rawalpindi left ten people dead became unreliable when the footages (though having no authenticity) were shared on social media and violence spread to other parts of the country. The Rawalpindi clash reflected a mob behavior and a dehumanized face of the mosque-imambargah conflict. The reaction of other religious organizations, particularly call for a protest on this Friday by the Ahle Sunnat Wal Jamaat and the Defense of Pakistan Council (DPC) warns us of the frightening repercussions of the event. Though, for the ‘greater national interest’, the Azad media propagated an impression that ‘it was by and large a peaceful Ashura across the country’ but in fact, for the first time, that was an Ashura which is being presented as a base for legitimization of creating more alarming situation for religious minorities by the Sunni religious organizations. They want to convert all sectarian sentiments into a mob behavior and try to prove sectarian enmity something deep-rooted in the society.

In this case, here is already a problem with the Pakistani liberals that they are looking into the issue of sectarian violence through a perspective which blames the society for lacking of tolerance. They ignore all the causes which have given birth to this behavior, intolerance, an issue dangerously injected into the body of society by the broader political spectrum and the deep state. 

Could there be any sense making argument in the analysis for blaming the society for sectarian violence? Whether this is a problem with the belief system (religious codes) or with the believers? Can this popular myth make any sense more that every religion, in its real spirit, promote peace and proscribe violence?

In my view, the issue of the real spirit of religion is just like the flawed myth of Jinnah’s real Pakistan which has never be seen. These all are the problems of apologetic thinking having nothing to do with history and ground realities. 

In Pakistan, the need and significance of religious harmony are supported by all peace lovers through an apologetic approach to religion; Islam is the religion of peace, tolerance (rawadari) and coexistence (baqa-e-bahmi) and we should follow this real Islam.  This approach lacks all radical characteristic and secular insights. Democracy without a secular political contract is the government of religious majority as we see it today in Pakistan.

Until and unless we do not take war/violence as a class or state phenomenon, the dilemma in discourse and politics will remain an ineffective preaching-type activity hardly backing an element of change in the broader fabric and thinking pattern of the society, and in political structure of the state.

The sectarian violence, in Pakistan, is not something which has an independent status of crime; it is an inevitable part of the state terrorism. The state, very discreetly, entertains this part. By bringing deep down divisions into the societal whole ultimately secures the absolutist state from any expected class and nationalist menace.  The logic seemed behind the Hazara killings in Quetta was to give an impression that Balochistan is not a political singularity to be analyzed only in the context of Baloch nationalist question but there is also a deep polarization in certain aggressive religious and sectarian terms. The deep state is busy to bring number of issues into its narrative and as well as in practice to overlap the Baloch nationalist cause which genuinely and quickly gets an international favor.

The educators of ‘tolerance’ hardly feel any need to say something about the implicit capitalization of the strategically ingrained intolerance in society by the state institutions. In the constitution, definition of a Muslim and exclusion of the Ahmadis from Islam were not a result of any intolerant society but it was the business of the state itself that provided a space for mullahs to escalate the religious and sectarian intolerance. The tutors of tolerance rarely pay any serious heed to the fact that intolerance practicing and preaching by the religious and sectarian organizations basically enjoys its legitimacy in the constitution of Pakistan. In the constitution, the legislators of the major sect have brutally marginalized all religious minorities.  

For an intolerant behavior, could we blame a society which has been brain washed by the education system full of with religious hatred?

Who has given free hand to those mullahs who deliver provocative and fanatic speeches from mosques? , 

The state which is able to have a very coercive access to the Baloch nationalist workers becomes unable to find out any religious culprits who are killing and beheading innocent people. I don’t see any issue of incompetence with the state but a shameful unwillingness is observed whenever the state is asked for an action against the religious fanatics, Taliban, sectarian culprits and banned Jihadi organizations.

د شهيد ډاکټر نجيب ياد او د ملي روغې جوړې د سياست بنياد/ خان زمان کاکړ

 

Image

هر کال د شهيد ډاکټر نجيب الله د تلين د لمانځلو په مناسبت د هغه د ژوند، سياست او واکمنۍ د مهال تر ټولو مهم اړخ د ملي روغې جوړې پاليسي يوه داسې نکته وي چي موږ يې لازمي يادګيرنه کوو، ځکه چي هم دې سياست ته اوس مهاله افغانستان تر هر څه زيات ضرورت لري، له ۲۰۱۴م پس افغانستان که ددې سياست امانتګر ځان ثابت نه کړي نو د ۹۰يمې لسيزې تر تجربې به يې هم سرنوشت بدتر وي، د کابل سقوط او دريمه سقاوي ښايي ونه ليدل شي خو دننه په افغانستان کې ځينو حساسو تارونو ته لمس به هم د همغو په لمسه کېږي چا چي د جينوا معاهده په يو مخيز ټرېفک بدله کړې وه او د چا له جورې چي د ډاکټر نجيب د ملي روغې جوړې سياست هم تر ون وې ټرېفک زيات اهميت و نه درلود خو دا بيا بېله او پراخې څېړنې ته محتاجه نکته ده چي هم دې يو اړخيز سفر بيا هم په رياست او ټولنه کې ګڼ اړخيزې اغيزې لرلې او د څنګلوري مخالف ګڼې غصې يې پارولې. د تاريخ لټون دې پرېکنده پرېکړې ته رسېدلی چي ډاکټرنجيب ته خپل د ملي روغي جوړې سياست د دار د تختې تقدير رقم کړ، د شهيد ډاکټر نجيب په مرګ کې د هر ډول سپکاوي هڅه په دې وشوه چي راروان وختونه به د سپکو خلکو په اداره، دايره او اراده کې وي، آو …….  بيا خو هغه هم وشول، څه چي له ډاکټر نجيب سره هم نه ؤ شوي. له هرې طبقې او سوچ سره وشول خو له هغه چا سره تر ټولو په شديد انداز وشول د چا په سوچ، سليقه او سياست کې چي د ملي پخلاينې د روئيې څه نخښه او څرک ليدل کېده. نن هم چي څوک په افغانستان کې د ملي پخلاينې د سياست په پروسه کې څه مرسته کولی شي هغوی يا خو د مرګ د قاصد له پاخه او پرېکنده اخطاره غلي دي او يا د پاکستان په جېلونو او جېل ساتونکو ځايونو کې قېد دي.

د ډاکټر صاحب د ملي روغې جوړې سياست تش د يوې اخلاقي لارليکې نيولو تبليغ نه و، بلکې دې سياست هغه ټولې ځانګړڼې او ښېګڼې دردلودې چي د يوې ګڼ توکميزې او ډليزې ټولنې د چارو د تر سره کولو، د بقائې باهمي د پرنسيپ د طې کولو او د فيډرالزم او پلورالزم د پلي کولو لازمي فکټورونه پامېږي. ډاکټر نجيب پخپله دوره کې د سيمه ايزې همکارۍ پر سياست تر ټولو زيات زور راوړی و، دا چي د اوسپنيزې دنيا قوتونو د هغه دا زور په اوبو بدلاوه، ښايي نه پوهېدل چي دنيا د سيمه ايز رقابت يو خوټکېدلي دوزخ ته ټېل وهي. نن به هم د ۲۰۱۴م پس پر خپلو پښو د درېدلو او  تګ تجربې ته د داخلېدونکي افغانستان خاکه جوړونکې دنيا دې ټکې ته خاص پاملرنه کوي چي د اسياء  زړه خو بيا د تاريخ د فحاشې نوآبادياتي تيروتنې له لاسه هغه تېره توره نه خوري کومه چي يې په ۹۰يمه لسيزه کې خوړلې وه او تر دې هم زړه لړزونکې خبره خو دا ده چي شپږ شپېته کاله وړاندې ددې فحاشې نوآبادياتي تېروتنې له سرزدکېدلو پس د افغانانو هره شېبه په دې اندېښنه او سوچ تېرېږي چي که د پېرنګي د وراثت پر ټپرۍ ناست چا خدای مه کړه د هغې کټارې د څنډلو هڅه بيا وکړه کومه چي افغانستان يو سل شل کاله وړاندې پر خپله ملا خوړلې وه نو بيا به څه کړو؟ د قامونو په تاريخ کې دا تر ټولو بدې او ناآرامه شپې وي چي کله يې څنګلوري د خپلواکيو غله وخېژي. د افغانانستان په برخه کې خو تراژيدي دا وشوه چي د سټراټيجکي ژورتيا په ژور دوزخ کې په غورځولو سره يې د هغه غورځنګ د جنم غريزه  ور شنده کړه چي د خپل نيم وجود د بېرته لاس ته راوړلو په ارمان يې تېغ وهلی او تبارز کولی شو. دا اوس چي له خپلو، له خپلو نازولو هم کله نا کله يوه نااشنا غوندې ژبه اورو، ددې اختراع هم د هغه اوږده تبليغ او معاشرت په اوږدو کې شوې چي د وحدت ارمان  د لېوني په خوب تعبيروي. سړی حېران شي، چي د پاکستان د رياستي ډسکورس، تعليمي نصاب او مهارو رسنيو تبليغ پر هغه چا هم حاوی ثابتېدلی شي د چا نظرياتي سابقه چي د پاکستان د قيام تر نوآبادياتي پروژې ډېره وړاندې په دې خاوره کې د يو پراخ ولسي کمټمنټ رېښه لري. خپله نظرياتي سابقه او تاريخي رېښه غوڅول ځان پر وچ ډاګ د هغه غرڅنيو شرمښانو په خوله د ورکولو مانا لري، د کومو شرمښانو ويره چي فخرِ افغان د خپلو آخري لفظونو په توګه د ګاندي جي په وړاندې مطرحه کړې وه، “تا موږ شرمښانو ته وغورځولو.”

دا هم يو خلوص و، د يوې مفروضې پايله وه چي له ناين الېون ورسته داسې و انګېرل شوه چي په پاکستاني رياست کې په کوآوپټېشن به په افغانستان کې د ملي روغې جوړې سياست د څنګلورو له شرارت څخه خوندي وساتل شي، دې خلوص او مفروضې ته د ۲۰۱۳م  په عامو انتخاباتو کې ځواب ووئيل شو، د جنګ د خرخښو خواخوږو ته د واک چارې وسپارل شوې،  اوس په پښتونخوا کې تر هغه د زيات څه د کولو ګنجايش رغول شوی دی، څه چې يې د اوو ټوپکسالارو فابريکو په توګه کړي ؤ، اوس يوازې پښتونخوا او فاټا نه بلکې هورې له ږوبه تر کوټې ورپورې يې هم ښې باوري رېښې اچولي دي او باوري سرچينې خبر ورکوي چي مقاميت د داخلي نوآبادياتو په قبضه کې د استخباراتو د چاودېدونکو توکو په يو داسې صندوقچې اوښتی چي که يې د چاودېدلو نوبت احساس شو نو هر څه به له ځان سره والوځوي. د اې اين پي افراسياب خټک  داسې يو صورتحال ته د توکميزې زلزلې (Ethnic Earthquake) نوم ورکړی او وئيلي يې چي زلزلې بيا سرحدونه نه پېژني. د جنګ او سياست دا زلزلې چي د واک او رياست د فطرت په کوم قانون اداره کېږي، رښتيا هم هغه سرحدونه نه پېژني کوم چي په اصل کې سرحدونه نه دي، خو چي سرحدونه دي د هغوی د تقدس خيال يې تر ډېره حده ساتلی دی. نن هم په پاکستان کې پنجاب تر ټولو محفوظ ايالت دی، د توندلارو دې نظرياتي نهال خانې چرته هم په خپله ټولنه کې د زهرجنو ونو تحفه نه ده ورکړې بلکې خپلې ټولنې ته يې د کاروبار يوه ډېره کاميابه وسيله په لاس ورکړې ده. ټول جنګونه د پښتنو د تربورانو تر منځ د بدۍ په ډول نه وي چي دواړې غاړې تباه کاندي بلکې ددې جنګونو خصوصيت دا دی چي يوه ډله دې پکې معاشي زېرمي يقيني کړي، ګوادر دي ترې جوړ کړي او د بلې ډلې لپاره دې د سوات د خوني چوک بڼه خپله کړي يا دې د هغې تيرا په ډول شي چي هر څوک اوس پکې “اپريدي غوندې خبرې د ولجو کړي” خو داسې نه چي اپريدي به پکې مغل ته خېبر نيسي.

ډاکټر نجيب په رښتينې مانا د افغانستان يو ډېر ځيرک سياستدان او واکمن و، هغه د ټولنې دننه د رغېدلي افتراق، نفاق او انتشار په نوعيت او شدت پوهېدو او هم يې دې ته انرژي ورکوونکي څنګلوري پېژندل. يو جنګ ځپلي هيواد او پر منځ ماتې ټولنې د هم داسې سياست تقاضا کوله، کوم سياست چي ډاکتر صاحب د ملي روغې جوړې تر عنوان لاندې مطرحه کړ، ددې هيواد او ټولنې روزګار نور د ځانګړو نظرياتي پېژندګلويو د پاللو برداشت نه درلود. مخالف (مرور) ته په درناوي او امتياز د قايل کېدلو چي تر ټولو سخته مرحله وه، د هغې مرحلې سختو ته ډاکټر نجيب په ډېره پراخه سينه قايل شوی و خو په منځ کې حايل څوک تر ننه پورې حايل پاتې دی، پرون يې رويه دا وه چي ډاکټر صاحب به د ملي پخلاينې د غوړېدنې په پار هر ډول پېغام د “مرورو وروڼو” په نوم راواستاوه  نو په لاره به کاچاق، اغوا او برباد کړل شو او نن چي د بين الافغاني سولې په موخه چېري له چا سره د لارې ايستلو هيله پېدا شي، دوی يې په زندان دننه کړي او د يو داسې رشوت مطالبه وکړي چي د افغانستان په وس کې نه وي.

د افغانستان په وس کې هيڅ نشته، دا يې په وس کې شته چي خپل يو سياسي فرنټ قايم کړي، دا يوازې د ملي روغې جوړې د سياست په زور کېدی شي، په هم دې زور له سيمه ايزو لاس اچونکو سره خبره کېدی شي او هم پرې دنيا دې ته مجبورېدی شي چي يوازې د افغانستان په بيا رغونه کې مرسته ونه کړي بلکې هغه څوک په اقتصادي او سفارتي توګه پر سر ووهي څوک چي په افغانستان کې له دېرشو کلونو سرونه وهي.

پاکستان اور مذہبی اقليتيں

Image

اسلامی جمہوريہ پاکستان ميں اگرچہ مذہبی اکثريت کا بهی کوئی اطمينان بخش معيارِ زندگی نہيں ليکن مذہبی اقليتوں کيلئے  تو اس ملک ميں بسنے کی گنجائش ہی ختم ہورہی ہے.  اکثريتيں بے شک بڑی مشکل ميں ہيں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور ديگر مصيبتوں کا شکار ہيں ليکن ان ميں پهر کسی سطح پر مزاحمت کرنے کی صلاحيت بهی موجود ہے اپنا مستقبل محفوظ بنانے کيلئے کوئی راه بهی تلاش کرسکتے ہيں جبکہ مذہبی اقليتيں ايک بندگلی ميں پهنسی ہوئی ہيں تاريخ بتاتی ہے کہ پاکستان کی تخليق اقليتوں اور کمزورلوگوں کيلئے بندگلی کی تخليق تهی. اب نکلنے کا کوئی راستہ کيا ہوسکتا ہے؟ ملک چلانے کا جو راستہ آئين کے نام سے موجود ہے اس ميں بدقسمتی سے اقليتوں اور کمزور لوگوں کو بندگلی ميں يرغمال رکهنا اور اوپر سے تشدد کی آگ برسانا جسٹيفائيڈ ہے. اقليتوں کی حثيت پاکستان ميں دوسرے درجے کے شہريوں کی ہے اس لئے ان پر تشدد کی نوعيت بهی تهوڑا مختلف ہے بالفاظ ديگر سٹيٹ ڈسکورس ميں يہ تشدد بڑی حد تک جسٹيفائڈ ہے. رنگ، نسل اور عقيدے کی بنياد پر امتياز برتنے کی ۶۵ سالہ پاليسيوں کا يہی نتيجہ ہوسکتا تها کوئی غير معمولی کام بهرحال نہيں ہورہا. اس حوالے سے موجود سٹيٹ ڈسکورس کو چيلنج کرنے کا ايک ہی طريقہ نظر آتا ہے کہ انسانی حقوق کے اس سوال کو براه راست قومی، طبقاتی اور جمہوری سوال کے ساته جوڑ ديا جائے. فرقہ وارانہ تشدد اور اقليتوں کے سوال کی کوئی آزاد حثيت نہيں بلکہ يہ سٹيٹ ڈسکورس کے پيداکرده ديگر عوامی مسائل کے ساته وابستہ ايک مسئلہ ہے. ايک مستحکم جمہوريت ميں مذہبی آزادی کی ضمانت موجود ہے کيونکہ جمہوريت ہی زندگی گزارنے کا وه ضابطہ ہے جس ميں سيکولرزم روح کے طور پر کارفرما ہوتا ہے. جمہوريت کو پنپنے نہ دينے کا ايک مقصد يہ بهی ہے کہ عوام کے ذاتی معاملات ميں رياست کی مداخلت کو جاری رکها جائے. اس ذريعے سے غيرمنتخب اداروں کی بالادستيوں اور بدمعاشيوں کو تقويت اور طوالت ملتی ہے.

گزشتہ دو تين سالوں سے اس ملک ميں کچه اس نوعيت کے واقعات رونما ہورہے ہيں جس کی وجہ سے معاشرے ميں موجود عدم برداشت، بے حسی اور عدالتی و انتظامی اداروں کی لاپروائی عالمی سطح پر رسوا ہوچکی ہے، اس سٹيٹ ڈسکورس کے متعلق دنيا ميں شديد تشويش موجود ہے.

سينکڑوں ہندو گهرانے پاکستان ميں عدمِ تحفظ کی وجہ سے بهارت منتقل ہوچکے ہيں اور امکان يہی ہے کہ وه پهر کبهی يہاں کا رخ نہيں کريں گے اور رخ کريں بهی کيوں… دوسرے درجے کے شہری اور وه بهی غنڈوں کے رحم و کرم پہ!!! يہاں ان کی جائيداد پر بڑی اسانی سے قبضہ کيا جاسکتا ہے ان کو زبردستی مذہب تبديل کرنے پر مجبور کروايا جاسکتا ہے اور ان کی خوبصورت لڑکيوں پر نکاح ڈالی جاسکتی ہے. رياست ان معاملات ميں غنڈوں کو کهلی چهٹی ديتی ہے اور عدالتيں کوئی ايکشن نہیں ليتيں. اس نوعيت کے مقدمات ميں وکلاء اور ججز کيلئے زندگی اور موت کا مسئلہ پيدا ہوسکتا ہے. پاکستان کی عدليہ کبهی بهی اس سخت نکتے پر برہم ہوکے سوموٹوايکشن نہيں لے سکتی وه تو صرف جمہوری سياستدانوں کو بدنام و خوار کرنے ميں باجرات دکهائی ديتی ہے.

پاکستان ميں جب بهی اقليتوں پر زمين تنگ کی جارہی ہوتی ہے تو يہاں کے ترقی پسند جناح صاحب کی آئين ساز اسمبلی کی تقرير کا ورد شروع کرديتے ہيں ليکن کوئی سننے کيلئے تيار نہيں اس لئے کہ يہاں رياست نے شروع ہی سے جناح صاحب کو بڑی داڑهی ميں ايک زبردست فرقہ پرست بانی قوم کے طور پر پيش کيا ہے. يہاں کوئی بهی اپنی مسجدوں، امام بارگاہوں، مندروں اور درمسالوں ميں آزادی سے نہيں جاسکتا. يہاں مذہب کا رياست کے کاروبار کے ساته بہت گہرا تعلق ہے. قرارداد مقاصد ميں اس تعلق کی ايک آئينی حثيت بهی ہے.  قراردادِ مقاصد کی بدولت بے لگام سياسی غنڈوں کو پهر ضياء الحق نے مسلح کراکے مذہب کے نام پر سب کچه کرنے کی اجازت دی. يہ سب اب آئين کا حصہ ہے. بهٹو صاحب کے دورِ حکومت ميں جب قاديانيوں کو ايک آئينی ترميم کے ذريعے خارج از اسلام کيا جارہا تها تو اس وقت کے اپوزيشن ليڈر خان عبدالولی خان نے اس کی مخالفت ميں کہا تها کہ پارليمان کوئی مفتيوں کا اداره نہيں اس کے پاس يہ فيصلہ کرنے کا اختيار نہيں ليکن ان کی بات کسی نے نہيں سنی. ضياء الحق نے اس عمل کو اس حد تک آگے بڑها ديا کہ رياست نے عوام کی ذاتی زندگی ميں براره راست مداخلت شروع کردی. اس عمل کے سب سے برے اثرات مذہبی اقليتوں کی زندگی پر پڑے. اقليتيں رياست کے مين سٹريم سے نکل گئيں اور سماج ميں ان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا. نصاب تعليم ميں ان کو نفسياتی طور پر تشدد کا نشانہ بنايا گيا اور کاروباری حضرات نے ان کا ايک شرمناک استحصال شروع کرديا.

برما ميں مسلمانوں کے ساته جاری مظالم پر ردعمل ميں پاکستان کے دوہرے معيار  کا اندازه لگايا جاسکتا ہے. برما ميں مسلمان اقليت ميں ہيں ان کے ساته جو کچه ہورہا ہے اس پر افسوس کا اظهار کيا جاسکتا ہے. رنگ، نسل اور عقيدے کی بنياد پر امتياز يا خونريزی کی اجازت کہيں بهی نہيں ہونی چاہيے ليکن پاکستان ميں مذہبی اقليتوں کے ساته جو کچه ہورہا ہے اس کو کس طرح جائز قرار ديا جاسکتا ہے. صرف ہندو کميونٹی ہى ہجرت کرنے پر مجبور نہيں ہوچکی ہے بلکہ عيسائی، قاديانی، شعيہ اور ديگر مذہبی اقليتوں کيلئے بهی اس ملک کا ڈهانچہ سازگار نہيں. ہم برما اور دنيا کے کسی بهی ملک ميں مسلمانوں کو آزادی سے رہنے اور اپنے عقيدے کے مطابق گزارنے کا مطالبہ کرتے ہيں ليکن يہ جو قانون ہم دنيا پر لاگو کرنا چاہتے ہيں وه اپنے اوپر کيوں نہيں؟ ہم مطالبہ کرسکتے ہيں کہ برما ميں مسلمانوں کو اپنے عقيدے کے مطابق اس طرح رہنے کی اجازت ہونی چائيے جس طرح امريکہ اور يورپ ميں مسلمان اپنے عقيدے کے مطابق زندگی گزار رہے ہيں. يہ سيکولرازم ہے ليکن اس سيکولرازم کو ہم پاکستان ميں کيوں ماننے کيلئے تيار نہيں؟ اس معيار کے ساته کيا کيا جائے کہ دوسروں کو سيکولرازم اپنانے کی نصيحت ليکن خود کو تهيوکريسی ميں مذہب کا سياسی استعمال کرکے ہر طرح کی بربريت ڈالنے کا حق دے؟

تاريخی لحاظ سے يہ دوقومی نظريے کے تباه کن اثرات ہيں. رياست ابهی تک اس حماقت پر تلی ہوئی ہے کہ دوقومی نظريہ کو نصابِ تعليم ميں ايک متعلقہ موضوع کے طور پر پڑهارہی ہے. اگر يہ ايک متعلقہ نظريہ ہے تو پهر پاکستان ميں موجود اقليتوں کو بهی يہ حق ملنا چاہيے کو وه مذہب کے نام پر اپنی اپنی قومی رياستوں کا مطالبہ کريں. دوقومی نظريے پر وجود ميں آئی ہوئی يہ اسلامی رياست اگر مسلمان افغانستان کو تباه کرنے کی پاليسی اپنا سکتی ہے تو غيرمسلم کميونيٹيز کے خلاف کيا کچه نہيں کرسکتی؟

Thrown to the wolves

Image

پاکستان ميں رياستی تناظر سے ہٹ کر دہشت گردی پہ بات کرنا اتنا ہی عبث ہے جتنا کسی مُلا يا محب وطن کو سمجهانے کی خواہش!!  جب بهی عوام سے براه راست کوئی بات کرنی ہو تو پاکستان کے حکمران طبقات دہشت گردی کے مسئلے کو معاشی بدحالی اور لوڈشيڈنگ سے اس لئے کم اہميت ديتے ہيں کہ اس مسئلے ميں رياست کا رول بے نقاب نہ ہوجائے اور لوگ اس بنياد پر حکمرانی کے معيار کو پرکهنا شروع نہ کرديں کہ دہشت گردی کے خلاف کيا اقدامات ہوئے ہيں.

 وزيراعظم نوازشريف نے ۱۹ اگست کو ايک گهنٹے کے طويل خطاب ميں قوم (!) کو چند ايک معاشی مسائل پر ايک سطحی بيان دينے سے يہی پيغام ديا کہ وه اس آواز کو سن سکتے ہيں جو پنجاب کے اندر سے اٹهتی ہے. مسئلہ يہ بهی ہے کہ مياں صاحب کو مينڈيٹ پنجاب نے ديا ہے اور خوش قسمتی سے دہشت گردی کبهی پنجاب کا مسئلہ نہيں رہی ہے. انہوں نے اپنی تقرير ميں کسی دہشت گرد تنظيم کا نام لينا يا دہشت گردی کے خلاف کسی پاليسی کا اعلان کرنا اس لئے بهی گوارا نہيں کيا کہ ايک تو ان ساری تنظيموں کو رياستی ڈسکورس ميں تزويراتی اثاثوں کا رتبہ ديا گيا ہے اور دوسرا يہ کہ ان ساری تنظيموں کی افزائش اور پرورش اس صوبے ميں ہوتی ہے جس سے مياں صاحب کی ساری شان وابستہ ہے اور جس سے پاکستانی رياست کا سارا  مفہوم ماخوذ ہے.

ہمارے بعض دوست شکوه کرتے ہيں کہ مياں صاحب نے اپنی طويل تقرير ميں دہشت گردی کے دوزخ ميں يرغمال فاٹا کا نام تک نہيں ليا. ان دوستوں کی خدمت ميں ايک مختصر سی عرض يہ ہے کہ فاٹا کو  پاکستان ميں افغانستان کے سابق سفير مُلاضعيف کی طرح چند سکوں کے عوض بيچا گيا ہے. فاٹا اب عربوں، ازبکوں، تاجکوں، پنجابيوں اور ديگر مسلمانوں کے گوانتاناموبے ميں قيد ہے. مغل اور انگريز امپائرز کے خلاف طويل جدوجہد کرنے اور اپنی آزادی کو يقينی بنانے والے يہ قبائلی لوگ پاکستان کی اسلامی امارت کے سامنے زياده دير تک نہيں ٹهہر سکے. پاکستان کے پروجکٹ کا مقصد بهی يہی تها کہ مقامی مزاحمت پسندی اور آزادی پسندی کو قتل کيا جاسکے اور يہ پروجکٹ نہ صرف کامياب رہا بلکہ نوآبادياتی تنخواه دار طبقے کو ايک بڑی معاشی سلطنت کا مالک بهی بنا ديا.

وه ايک جملہ جس سے پاک فوج کی معاشی سلطنت کی بقاء کا سوال وابستہ ہے مياں صاحب بهی نہيں بهول سکے اور دہرايا کہ کشمير پاکستان کا شہ رگ ہے. بالفاظِ ديگر کشمير پاکستان کا گوادر يا فاٹا ہے. زرخيز زمينوں کے ساته اس طرح کی وابستگی کا اظہار کيا جاسکتا ہے اور جب زمين لوگوں سے زياده مقدس اور قيمتی بهی ٹهہر جائے.  رياست کے امن کی آشا جب شہ رگ شہ رگ کی دُهن گنگناتی ہے تو بڑی آسانی سے يہ بات سمجه آتی ہے کہ اين جی اوز کے کاغذوں کا رياست کی واقعی پاليسی اور عملی زندگی سے کوئی تعلق نہيں ہوتا. ضمن ميں اس نکتے کو بهی فوکس کرنے کی ضرورت ہے کہ پنجاب کے لبرل دوست کنٹرول لائن سے افواج کو ڈيورينڈلائن کی طرف لانے کا جو مطالبہ کرتے ہيں وه شہ رگ کی رجز سے بهی زياده خطرناک بات ہے. اس مطالبے کا تو يہ مطلب ہے کہ پاکستان کو انڈيا سے زياده خطره افغانستان سے ہے اور انڈيا کی بجائے افغانستان کو دشمن نمبر ون ڈکلئیر کيا جائے. تين دہائيوں تک ايک ملک کو بری طرح سے تباه و برباد کرکے پهر اس کو خطرناک بهی قرار دينا يہی پيغام تو ديتا ہے کہ جنگ کو ختم نہ کيا جائے. افغانستان ان مسائل ميں سے ايک ہے جس پر پاکستانی لبرلزم کی تمام تر عقلمندی اور اصليت سامنے آجاتی ہے. حقيقت يہ ہے کہ پاکستان کو نہ تو کبهی انڈيا سے خطره رہا ہے اور نہ ہی افغانستان سے بلکہ ان دونوں ملکوں کو ہميشہ پاکستان سے خطره رہا ہے. صرف يہ بهی نہيں جتنے بهی ہمسائے ہيں ان کو تشويش ہے کہ پاکستان کی دہشت گردی کے سايے ان تک پہنچ رہے ہيں.

جو کچه سکندر نامی مجاہد نے ابهی چه گهنٹوں تک اسلام آباد ميں کيا وه ايک تماشہ نہيں تها بلکہ پاکستانی رياست کا ايک بڑا زبردست اور جامع خاکہ تها، پاکستان کی ايک مکمل تصوير تهی اور ايک شہکار تها. پاکستان ميں ہميشہ يہی ہوا ہے يا پاکستان نے ہميشہ يہی کيا ہے. کوئی شخص کلاشنکوف اٹها کرکے نکلتا ہے، رياست تماشہ کرتی ہے، ميڈيا اس کی پوری بائيوگرافی اور کارگزاری پيش کرتا ہے اور پهر ايک دوسرا شخص (پيپلز پارٹی کے زمردخان جيسا) جس کی يہ ذمہ داری نہيں ہوتی حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہوکرکے يا صورتحال سے تنگ آکرکے کلاشنکوف بردار مجاہد کے ساته خالی ہاتهوں مقابلہ کرنے ميدان ميں نمودار ہوجاتا ہے، چند لمحوں کيلئے اس کو ہيرو بنا ديا جاتا ہے اور پهر کوئی سيکوريٹی فراہم کرنے کی بجائے دہشت گردوں کے رحم و کرم پہ چهوڑ ديا جاتا ہے.

يہی سکندر جسکو اسلام آباد ميں پاگل کا نام ديا گيا اگر پختونخوا اور فاٹا ميں لوگوں کو قتل کرنے نکل جاتا تو اس کو مجاہد کا نام ديا جاتا اور عمران خان و کامران خان جيسے لوگ کہتے کہ يہ ڈرون حملوں کے ردعمل ميں مشتعل ہوکرکے انتقام لينے نکلا ہوا تها. کوئی بهی پاگل جب پختونخوا اور فاٹا ميں داخل ہوجاتا ہے تو اس ميں فوراً مجاہد کی خصوصيات پيدا ہوجاتی ہيں. رياست کی غيرموجودگی يا شديد ايک طرفہ موجودگی سے جو لوگ تنگ آکرکے زمردخان جيسا طريقہ اپناليتے ہيں ان کو ايک ايک کرکے قتل کرديا جاتا ہے. پاکستان ميں پختونخوا اور فاٹا کے زمردخان کو ہيرو کا ٹائٹل بهی نہيں ديا جاسکتا اس لئے کہ يہ قومی مفاد ميں نہيں. ورنہ ڈاکٹر شکيل آفريدی ستاره جرات اور ہلالِ امتياز سے بڑه کرکے کسی اعلیٰ رياستی اعزاز کے مستحق تهے. ان کو غدار ڈکلئير کرکے افغانستان کی طرح تين دہائيوں تک مصيبتوں ميں ڈالنے کا يہی پيغام تها کہ رياست کے اپ سائيڈ ڈاؤن ڈسکورس ميں جو عوام کا ہيرو ہے وه رياست کا غدار ہے. جو اسامہ بن الادن کو ايک پرتکلف ميزبانی دينے کا شرف پاگئے وه تو يقيناً اب بهی بڑے بڑے رياستی عہدوں پر فائز ہونگے اور يہی تو تها جس نے ايبٹ آباد کميشن کو ذمہ دار لوگوں (ادارے) کی نشاندہی کرنے کی حماقت سے بچايا.

پختونخوا کو اسامہ کی بجائے کسی اور ماڈل پہ ديکهنے کی خواہش مکمل پاکستان دشمنی کے زمرے ميں آتی ہے. پختونخوا کی پچهلی حکومت کو اپنے اس کام پہ سب سے بڑا ناز تها کہ اس نے نصابی کتب ميں موجود “مجاہد” کو ڈسٹرب کرديا ليکن اس کو شايد يہ پتہ نہيں تها کہ اسلامی اصولوں کی تجربہ گاه کے طور پر وجود ميں آئے ہوئے ملکِ خداد پاکستان کی نظرياتی اساس يا تو آئين ميں محفوظ ہے اور يا نصابِ تعليم ميں. اٹهارويں ترميم کے ذريعے اگرچہ آئين ميں موجود ضياء الحق کا تو کچه نہيں بگاڑا گيا ليکن نصابِ تعليم ميں تبديلی کا اختيار صوبوں کو ملا. پختونخوا کی پچهلی صوبائی حکومت نے ايک حد تک اپنے اس اختيار کا استعمال کيا. جب حکومت تحريکِ انصاف اور جماعتِ اسلامی کو ملی تو نصابی کتب ميں جذف شده مجاہد کو اپنی اصل شکل ميں واپس لانے کا اعلان کيا گيا. بی بی سی کے مطابق تحريکِ انصاف کے سربراه عمران خان نے خیبر پختونخوا تعلیمی پالیسی سے متعلق ورکنگ گروپ کے اجلاس ميں برملا اس بات کا اظہار کیا کہ وہ پکے مسلمان ہیں اور وہ حکومت تو چھوڑ سکتےہیں لیکن جہاد کے بارے میں قرانی آیات کو نصاب سے نکالنے پر سودہ بازینہیں کرسکتے۔

اس تمام تر صورتحال ميں ہم کيا کرسکتے ہيں صرف باچاخان کے اس تاريخی جملے کی روشنی ميں اپنی حالت کو ديکه سکتے ہيں جو انہوں نے تقسيم ہند کے فيصلے پر بڑے دل برداشتہ انداز ميں عرض کيا تها. انہوں نے گاندهی جی سے کہا تها:

“You have thrown us to the wolves”

(Published in Monthly Nia Zamana, Sept. 2013)

Jinnah’s Pakistan

 

Image

Mr. Jinnah wanted this country to be a laboratory where Islamic ideas could be experimented upon. Taliban, LeJ and their partners are performing this great duty to do experiments of Islamic Ideas in this laboratory by using human beings as experimental animals and suicide bombers as experimental instruments.


They are free to go to mosques, churches, temples and other places of worship to kill, butcher and behead worshipers, the children of a lesser god and to collect the Mal-e-Ghanimat. This has much to do with the business of the state and the working environment of the laboratory.


The dirty politicians particularly nationalists and secularists destroyed the economic base of Pakistan and corrupted its Islamic nature. Keeping in view the greater interest of the country it was the need of time to clone the Taliban, LeJ and the like in the Laboratory to build a terrorist industry for the economic welfare of the state and for the true restoration of its lost essence.


Thanks to these patriots who contributed a lot to the popularity of Pakistan in the international politics; now, no one can ignore Pakistan because it is exporting its commodities (terrorists) all over the world without any visa policy and market principle.
Pakistani patriots want to move freely wherever they want like the primitive nomads who were very less conscious about the boundaries and the instrumentalization of state was not taken place that time.


The state very rightly has assigned Taliban as its strategic assets because they have enabled Pakistan to secure a biggest share in the blessings of Petro-Dollar Islam.


It would be erroneous to consider the dominance of Punjab a coercive design; instead of any coercion, its dominance was become reality through the firm belief in the Jinnah’s teachings and it will be against the ideology of Pakistan if one terms a holy violence embedded in Jinnah’s teachings as a coercion or repression. If Punjab serves as an ideological nursery for Taliban and other Jihadi organizations it is for the sacred purpose of the experimentation of Islamic Ideas. People in rest of Pakistan have been polluted by the dirty ideas of Indian agents who want to see Pakistan as a secular state (means “Mother Father Azadi”, vulgarity and bodega)


We can easily conclude from the teachings of Mr. Jinnah and Pakistan’s current scenario that we will find in course of time that Humans would cease to be Humans and Taliban will make it possible in case if infidels are defeated in Afghanistan.